ہراسانی اور استحصال جیسے معاملات پر زیرو ٹالرینس رکھتی ہوں ، ہانیہ عامر
خواتین اور لڑکیوں کے وقار اور تحفظ کو متاثر کرنےوالا کوئی بھی ناقابل قبول ہے، اداکارہ
شوبز انڈسٹری میں جاری حالیہ تنازع پر معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنا واضح مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے تناظر میں معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے واضح کیا ہے کہ وہ ہراسانی اور استحصال جیسے سنگین معاملات پر کسی بھی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کی قائل نہیں ہیں اور اس حوالے سے ان کی پالیسی مکمل طور پر "زیرو ٹالرنس” پر مبنی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے اداکارہ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایک ایسے پروڈیوسر کی قریبی دوست ہیں جن پر ہراسانی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ بعد ازاں چند ماڈلز اور اداکاراؤں کی جانب سے مبینہ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کیے گئے، جس سے معاملہ سوشل میڈیا پر مزید زیرِ بحث آ گیا۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے انسٹاگرام کے ذریعے وضاحت پیش کی کہ انہیں اس معاملے سے متعلق پہلے کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی طور اس کا حصہ رہی ہیں۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ خواتین اور بچیوں کے وقار، تحفظ اور عزت کو متاثر کرنے والا ہر رویہ ناقابلِ قبول ہے، اور ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی، احتیاط اور احترام کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
اداکارہ نے مبینہ طور پر شکایات سامنے لانے والی خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں محفوظ اور باعزت ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ خدشات کے پیشِ نظر انہوں نے متعلقہ فرد سے فاصلہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور کسی بھی پیشہ ورانہ یا سماجی تعلق کو کسی کے عمل کی تائید نہ سمجھا جائے۔
ان کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں متعدد مداحوں نے ہراسانی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے پر ان کی تعریف کی، وہیں کچھ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں مزید کھل کر بات کرنی چاہیے تھی۔