پاکستان، یورپی یونین شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر متفق، اسحاق ڈار کی کاجا کالاس سے اہم ملاقات

پاکستان، یورپی یونین شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر متفق، اسحاق ڈار کی کاجا کالاس سے اہم ملاقات

کاجا کالاس سے ملاقات میں علاقائی و عالمی صورتحال سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی گفتگو

نیویارک: (نیوز پلس) ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ بالخصوص تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی یورپی منڈیوں تک رسائی اور دوطرفہ تجارتی تعلقات میں جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی اور اس سلسلے میں تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت کے دوران پاکستان کے ساتھ یورپی یونین کے تعمیری روابط کو سراہا اور پاکستان کی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ علاقائی مسائل کا پائیدار حل طاقت یا محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر تمام فریقین کی جانب سے مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ملاقات میں دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔

اسحاق ڈار اور کاجا کالاس نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار - کاجا کالاسپاکستان - یورپی یونین
Comments (0)
Add Comment