ایران کی نئی جنگ کی صورت میں خطے کے 2 ٹریلین ڈالر کا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر نشانے پر ہوں گے، محسن رضائی

ایران کی نئی جنگ کی صورت میں خطے کے 2 ٹریلین ڈالر کا ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر نشانے پر ہوں گے، محسن رضائی

خطے میں موجود کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں، سربراہ قومی سلامتی کمیٹی

 

تہران کا آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار، امریکی اثاثوں کے خلاف وسیع تر منصوبے پر عمل درآمد کی دھمکی؛ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے سات شرائط پر جواب ناکافی ہے، مذاکرات کی بحالی سے قبل غیر حل شدہ معاملات کی وضاحت امریکا کی ذمہ داری ہے

 

تہران: ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو تہران خطے میں امریکی مفادات سے وابستہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی نئی صلاحیتیں استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق خطے میں موجود کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں، جن کی مجموعی مالیت ان کے دعوے کے مطابق دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران آئندہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے پہلے سے مختلف اور وسیع تر حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکا کے کئی اہم اثاثے تاحال ایران کے اہداف میں شامل نہیں کیے گئے، تاہم حالات نے دوبارہ جنگ کی صورت اختیار کی تو تہران اپنے ردعمل کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اثاثوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران مستقبل کے کسی بھی تصادم میں زیادہ جامع منصوبے کے تحت کارروائی کرے گا۔ ان کے بقول، خطے میں موجود ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سے متعلق تنصیبات کی غیر معمولی معاشی اہمیت ہے، اس لیے ممکنہ جنگ میں ان کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

محسن رضائی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ممکنہ فوجی تصادم کو صرف روایتی عسکری اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے خطے کے اہم معاشی اور تکنیکی انفرااسٹرکچر سے بھی جوڑ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ان ممکنہ اہداف کی مکمل فہرست یا کسی مخصوص کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

ایران کی سفارت کاری تبدیل ہو چکی، پرانے طریقے نہیں اپنائیں گے، محسن رضائی

 

ایرانی عہدیدار نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران کا سفارتی انداز تبدیل ہو چکا ہے اور ایران اب ماضی کی طرز کی سفارت کاری کی طرف واپس نہیں جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوئے، لیکن ان کے مطابق امریکی فریق نے ہر مرتبہ بات چیت ادھوری چھوڑ کر ایران پر حملہ کیا۔ محسن رضائی نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے مذاکراتی عمل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور پھر فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی معاہدے سے دست بردار ہونے والے فریق کے ساتھ معمول سے مختلف سفارتی رویہ اپنانا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے بقول، ایران اب محض مذاکرات کی بحالی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ کسی بھی نئے سفارتی عمل کے لیے واضح ضمانتوں اور اپنے مطالبات پر پیش رفت کا خواہاں ہے۔

محسن رضائی کے بیان سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ تہران آئندہ مذاکرات میں اپنے مؤقف کو زیادہ سختی سے پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم ان کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے کن اضافی ضمانتوں یا اقدامات کو لازمی قرار دے گا۔

 

امریکا نے سات شرائط کا جواب دیا، مگر ایران مطمئن نہیں

 

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط کا جواب دیا ہے، لیکن تہران اس جواب کو ناکافی سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکا نے پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے ایران سے رابطے کیے اور تہران سے اپنی تجاویز پیش کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے تقریباً دو ہفتے قبل امریکا کے سامنے سات شرائط رکھی تھیں، جن پر واشنگٹن کی جانب سے جواب موصول ہوا، تاہم بعض اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے ایران کی بعض شرائط تسلیم کر لی ہیں، لیکن تمام اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر ایران کو بار بار جواب دینے کے لیے کہنے کے بجائے واشنگٹن کو ان معاملات کی وضاحت کرنی چاہیے جن پر ابہام برقرار ہے۔

ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کے باوجود دونوں فریقوں کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے۔ پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے ہونے والے مبینہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم محسن رضائی کے بیان میں ان رابطوں کے نتائج یا کسی ممکنہ معاہدے کی حتمی صورت واضح نہیں کی گئی۔

ایران کی سات شرائط کی مکمل تفصیلات بھی ان کے انٹرویو میں بیان نہیں کی گئیں، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کن نکات پر متفق ہو چکے ہیں اور کن معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔

 

شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار

 

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران اپنی شرائط کی تکمیل تک اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کشیدگی یا جہاز رانی میں رکاوٹ سے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں، بحری بیمے اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام آبنائے ہرمز کی صورت حال کے بارے میں جو بیانات دے رہے ہیں، وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔

ان کے مطابق ایران اس گزرگاہ کو محض ایک بحری راستہ نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی سے منسلک اہم اثاثہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، تہران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

تاہم آبنائے ہرمز کی عملی صورت حال، جہاز رانی کی موجودہ آزادی اور مختلف ممالک کی بحری سرگرمیوں سے متعلق ان کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ انٹرویو میں پیش کیے گئے الزامات کو ایرانی عہدیدار کا مؤقف سمجھا جانا چاہیے۔

 

امریکا پر اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام

 

محسن رضائی نے امریکا پر آبنائے ہرمز کے قریب اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کے ساحلی پانیوں میں سرگرم بعض عناصر کو استعمال کرتے ہوئے اسمگلنگ کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کمانڈر ان سرگرمیوں کی قیادت کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات کی فوج کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان الزامات کے حق میں انہوں نے انٹرویو کے دوران کوئی ایسی آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق دستاویز یا شواہد پیش نہیں کیے جن کی بنیاد پر ان دعووں کی تصدیق کی جا سکے۔

ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ تیل کی منتقلی کے لیے بڑے آئل ٹینکروں کے ساتھ پانچ یا چھ چھوٹی کشتیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران گزشتہ چند ماہ سے ہر رات آبنائے ہرمز میں اسمگلنگ میں ملوث پانچ یا چھ جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی، تیل کی ترسیل اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق کشیدگی خطے کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اگر ان الزامات کے نتیجے میں مزید بحری کارروائیاں ہوتی ہیں تو اس سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو درپیش خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنانے اور امریکی یا اماراتی حکام کی مبینہ شمولیت کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کے بغیر انہیں ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے لیے قومی اور معاشی اثاثہ

 

محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے بغیر خلیج فارس کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس گزرگاہ پر اختیار ایران کے لیے ایک اہم قومی اثاثہ اور معاشی فائدے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا مقصد صرف آبنائے ہرمز کو بند کرنا یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنا نہیں، بلکہ اس آبی گزرگاہ سے وابستہ وسیع تر قومی مفادات کا تحفظ بھی ہے۔

ان کے بقول، آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حیثیت ایران کو خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی تجارت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تہران اس حیثیت کو اپنے دفاعی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کے ذریعے خلیج فارس کے توانائی پیدا کرنے والے ممالک عالمی منڈیوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس راستے میں طویل تعطل کی صورت میں تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، اس گزرگاہ پر کنٹرول اور جہاز رانی کے حقوق سے متعلق کسی بھی تنازع کے قانونی اور سفارتی پہلو بھی اہم ہیں۔ ایران کے مؤقف کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بحری قوانین اور دیگر ساحلی ممالک کے حقوق کو بھی اس بحث میں مدنظر رکھنا ہوگا۔

 

’جنگ کا اختتام ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے‘

 

محسن رضائی نے امریکا کی فوجی اور سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام موجودہ صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ایران کی صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے حقوق کے تسلیم کیے جانے تک مزاحمت اور دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا اختتام ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے اور تہران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایرانی عہدیدار نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکا سے زیادہ طاقت ور قوتوں نے بھی ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی، لیکن بالآخر وہ تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ان کا یہ بیان ایران کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونی فوجی دباؤ تہران کو اپنے بنیادی مطالبات سے دست بردار نہیں کر سکے گا۔

مجموعی طور پر محسن رضائی کے انٹرویو میں تین اہم پیغامات سامنے آئے ہیں: ممکنہ جنگ کی صورت میں ایران کے ردعمل کو وسیع کرنے کی دھمکی، سات شرائط کی تکمیل تک امریکا کے ساتھ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت مؤقف، اور خطے کے اہم معاشی و ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو ایران کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں پیش کرنا۔

تاہم ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں، سات شرائط پر پیش رفت، آبنائے ہرمز کی عملی صورت حال اور مبینہ اسمگلنگ سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق آئندہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہوگی۔ اگر دونوں فریق اپنے مؤقف میں نرمی پیدا نہیں کرتے تو خطے میں فوجی کشیدگی کے ساتھ عالمی توانائی کی تجارت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایران - امریکا - جنگمیجر جنرل محسن رضائی
Comments (0)
Add Comment