ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مشروط حمایت
ورلڈ اکنامک فورم کے تجزیے میں بہتر گورننس اور عوامی خدمات کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی پر زور
کاپی کریں
موجودہ چار صوبوں کی اوسط آبادی 6 کروڑ، فیصلہ سازی عوام سے دور ہونے کا انکشاف؛ نئے انتظامی یونٹس سے عوامی خدمات، مالی اختیارات اور جوابدہی بہتر بنانے کی سفارش
اسلام آباد: ورلڈ اکنامک فورم کے ایک تجزیے میں پاکستان میں بہتر حکمرانی، مؤثر عوامی خدمات اور انتظامی جوابدہی کے لیے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس تشکیل دینے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ تجزیے کے مطابق تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور علاقائی عدم مساوات کے باعث موجودہ انتظامی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر ادارہ جاتی اصلاحات اور اختیارات کو عوام کے قریب لانا ضروری ہے۔
تجزیے میں پاکستان کے لیے 16 نئے صوبوں یا پہلی سطح کی انتظامی اکائیوں سے لے کر 23 سے 25 انتظامی یونٹس اور موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زائد اکائیاں تشکیل دینے کے مختلف امکانات زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔ ان تجاویز کا بنیادی مقصد حکومتی فیصلہ سازی کو شہریوں کے قریب لانا، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانا اور مالی و سیاسی جوابدہی کو مضبوط کرنا ہے۔
تجزیے کے مطابق پاکستان میں 2030 تک آبادی تقریباً 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ملک کے صرف چار صوبوں میں آبادی کا ارتکاز انتظامی اور حکومتی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ موجودہ صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے، جس کے باعث صوبائی دارالحکومتوں سے دور واقع اضلاع کی ضروریات، مقامی مسائل اور ترقیاتی ترجیحات کو یکساں انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جب نسبتاً محدود آبادی کے لیے تشکیل دیے گئے انتظامی نظام سے کروڑوں شہریوں کو خدمات فراہم کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو فیصلہ سازی اور عوامی ضروریات کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس صورت حال میں مختلف جغرافیائی، معاشی اور سماجی حالات رکھنے والے علاقوں پر یکساں نوعیت کی پالیسیاں نافذ کرنے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تعلیم اور مالی وسائل کی صورت حال
تجزیے میں عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صوبوں کی اپنی آمدن مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ صورت حال صوبائی حکومتوں کی محدود مالی صلاحیت، ٹیکس وصولی کے مسائل اور عوامی ضروریات پوری کرنے میں درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے۔
پلاننگ کمیشن کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس کے مطابق جائزہ لیے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی ضلع انتہائی اعلیٰ کارکردگی کے زمرے میں شامل نہیں ہو سکا۔ تجزیے کے مطابق یہ نتائج اضلاع کی ضروریات، دستیاب بجٹ، تعلیمی نتائج اور فیصلہ سازی کے اختیارات کے درمیان موجود فاصلے کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامی کمزوریاں صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سیلاب، پانی کی قلت، شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی دباؤ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے اہم معاملات پر مؤثر منصوبہ بندی میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ مقامی سطح پر ضروریات کا درست تعین اور وسائل کی بروقت فراہمی اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب انتظامی اداروں کے پاس مناسب اختیارات اور مالی وسائل موجود ہوں۔
16 صوبوں یا انتظامی اکائیوں کا ماڈل
تجزیے میں ایک تجویز یہ دی گئی ہے کہ موجودہ چاروں صوبوں کو چار، چار حصوں میں تقسیم کرکے 16 پہلی سطح کی انتظامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ اس ماڈل کے تحت فی اکائی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ سے کم ہو کر ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی، جس سے انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم اور مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک دوسرے امکان کے تحت آبادی میں توازن اور جغرافیائی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 سے 25 انتظامی اکائیاں قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور لائی گئی ہے۔ اسی طرح موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زائد اکائیاں بنانے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، تاکہ انتظامی سطح پر آبادی کا حجم دیگر بڑی وفاقی ریاستوں کے قریب لایا جا سکے۔
تاہم تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ محض انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ نئے صوبوں یا یونٹس کو مؤثر بنانے کے لیے انہیں مناسب اور مستقل مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، مضبوط انتظامی صلاحیت اور واضح ذمہ داریاں دینا ضروری ہے۔ اگر اختیارات اور وسائل کی مناسب تقسیم نہ ہو تو نئی انتظامی اکائیاں بھی موجودہ مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔
18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے باوجود چیلنجز برقرار
پاکستان میں صوبائی خودمختاری بڑھانے کے لیے ماضی میں اہم اقدامات کیے گئے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعدد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے، جبکہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاقی ٹیکس محصولات میں صوبوں کا مجموعی حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا۔
ان اقدامات کے باوجود تجزیے کے مطابق مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی، مالی خودمختاری اور جوابدہی کے حوالے سے کئی مسائل برقرار ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو وسیع ذمہ داریاں حاصل ہیں، لیکن ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل کی مؤثر تقسیم بدستور اہم چیلنجز ہیں۔
تجزیے میں لاہور اور بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی مثال دیتے ہوئے آبادی کے حجم اور مقامی ضروریات میں نمایاں فرق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لاہور کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ جبکہ ہرنائی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار بتائی گئی ہے۔ دونوں علاقوں کی آبادی، جغرافیے اور ترقیاتی ضروریات میں فرق کے باعث ان کے مسائل اور ترجیحات بھی مختلف ہیں، تاہم دونوں کے لیے پالیسی سازی ایک ہی صوبائی انتظامی نظام کے تحت ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی ٹیکس اداروں کو محدود انتظامی صلاحیت، ٹیکس قوانین پر کمزور عمل درآمد اور قابلِ اعتماد معلومات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے مقامی اداروں کو بااختیار بنانے، محصولات جمع کرنے کی صلاحیت بہتر کرنے اور بجٹ کے استعمال کو قابلِ احتساب بنانے کی ضرورت ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں انتظامی تبدیلیوں کی مثالیں
تجزیے میں دیگر بڑی اور متنوع آبادی رکھنے والے ممالک کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں، جنہوں نے آبادی اور معیشت میں اضافے کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کیں۔
نائجیریا نے 1996 تک اپنے تین بڑے خطوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچے کو وسعت دے کر 36 ریاستوں تک پہنچایا، جبکہ انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر 38 ہو چکی ہے۔ کینیا نے 2013 میں اپنے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم کیں، جس سے مقامی سطح پر حکومتی ڈھانچے کو نئی شکل دی گئی۔
تجزیے کے مطابق انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل میں پہلی سطح کی انتظامی اکائیوں کی اوسط آبادی تقریباً 60 لاکھ سے 80 لاکھ کے درمیان ہے، جو پاکستان کے موجودہ صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انتظامی تقسیم اپنے طور پر ہر مسئلے کا حل نہیں۔ لبنان جیسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر چھوٹی انتظامی اکائیوں کے پاس مناسب مالی وسائل، ادارہ جاتی صلاحیت اور خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری اختیارات نہ ہوں تو وہ بھی مؤثر حکمرانی میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
اصلاحات کے لیے وسائل اور جوابدہی ضروری
تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا مقصد صرف صوبوں یا یونٹس کی تعداد بڑھانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آبادی کے حجم، حکومتی اختیارات، مالی وسائل اور جوابدہی کے نظام میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لیے نئی انتظامی اکائیوں کی حدود کا تعین کرتے وقت آبادی، جغرافیہ، معاشی صلاحیت، موجودہ انتظامی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اسی طرح مالی وسائل کی تقسیم، مقامی محصولات کی وصولی، سرکاری ملازمین کی دستیابی اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے بھی واضح نظام تشکیل دینا ہوگا۔
تجزیے کے مطابق جب آبادی میں اضافہ ادارہ جاتی صلاحیت سے تیز ہو تو حکومتی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے میں انتظامی ڈھانچے کو اس انداز میں بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ فیصلے ان شہریوں کے قریب ہوں جن کی زندگیوں پر ان فیصلوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی حدود، مالی وسائل اور اختیارات کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل سے متعلق تجاویز پر عمل درآمد کی صورت میں آئینی تقاضوں، مالی استطاعت، سیاسی اتفاقِ رائے اور مقامی نمائندگی کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی، تاکہ اصلاحات محض نقشے پر نئی حدود کھینچنے تک محدود نہ رہیں بلکہ عوامی خدمات اور جوابدہی میں حقیقی بہتری کا ذریعہ بن سکیں۔