مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مزید پھیل گئی، مصر کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ
میں ایک امریکی ملکیت کے فلوٹنگ اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ میڈیا رپورٹس
دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئی اور خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں جنگ کے اثرات اب مصر، عراق اور بحیرہ احمر تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مصر کی اہم بندرگاہ دمیاطہ میں ڈرون حملے کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ عراق میں امریکا اور سعودی عرب نے ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کی دمیاطہ بندرگاہ کے اس حصے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جہاں قدرتی گیس کی لوڈنگ کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک امریکی ملکیت کے فلوٹنگ اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ بعد ازاں قریب موجود ایک دوسرے جہاز تک بھی پھیل گئی، جس سے بندرگاہ میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی امبری کے مطابق دونوں جہازوں کے عملے کو بروقت اور بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ فائر فائٹنگ ٹیموں نے کچھ دیر بعد آگ پر قابو پالیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی۔
دوسری جانب امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجیوں اور سعودی عرب کے تیل کے تنصیبات پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی مفادات، فوجیوں یا اتحادیوں کو مزید نشانہ بنایا گیا تو ایران کو بھرپور اور سخت فوجی جواب دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع تیزی سے نئے محاذوں تک پھیل رہا ہے، جس سے خطے میں وسیع تر جنگ اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔