اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد ضروری، اسحاق ڈار اور فرانسیسی وزیر خارجہ کا اتفاق
ایران بحران کے سفارتی حل اور اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد کی ضرورت پر اسحاق ڈار اور بارو کا تبادلہ خیال
نیویارک: (نیوزپلس) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فرانس کے وزیر برائے یورپ و خارجہ امور ژاں نوئل بارو سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور فرانس کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک فرانس تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے فرانس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور سیاسی روابط میں اضافے، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، تعلیمی روابط کے استحکام اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے فرانس کی کوششوں کو سراہا، بالخصوص اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی اشیا کو محدود کرنے کے فرانسیسی فیصلے کو اہم قرار دیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی ایجنڈے میں بدستور ترجیحی حیثیت میں رہنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ، پائیدار اور جامع حل کے لیے عالمی برادری کی مسلسل کوششوں کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات میں ایران کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ اسحاق ڈار اور فرانسیسی وزیر خارجہ نے بحران کے حل کے لیے مسلسل سفارتی روابط اور علاقائی سطح پر جاری کوششوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی ذرائع اور مکالمے کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار اور ژاں نوئل بارو نے بحری آمدورفت کے تحفظ اور سمندری راستوں سے تجارت کی بلا تعطل روانی یقینی بنانے کو بھی اہم قرار دیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ توانائی کی بلاتعطل فراہمی برقرار رہنی چاہیے کیونکہ سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے وسیع تر عالمی اور علاقائی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے علاقائی فورمز سے بھرپور استفادے کی اہمیت سے اتفاق کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اور علاقائی امور پر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔