افغانستان سے دہشت گردی ناقابل قبول، اسحاق ڈار کا طالبان سے ٹھوس کارروائی کا دوٹوک مطالبہ
افغان سرزمین کو پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کیلئے قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں، اسحاق ڈار
نیویارک: پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کیلئے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یہ بات 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر افغانستان سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو اجاگر کیا۔
نائب وزیراعظم نے حالیہ کوہاٹ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا یہ واقعہ اس سنگین خطرے کی واضح یاد دہانی ہے جو خطے سے ابھرنے والی دہشت گردی کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات دہشت گرد گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں، دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں اور افغان سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ پاکستان پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قابلِ تصدیق یقین دہانی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
نائب وزیراعظم نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں پر عائد ان پابندیوں کے خاتمے پر بھی زور دیا جنہیں پاکستان اسلامی اصولوں اور مسلم معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیتا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں سیاسی طور پر زیادہ جامع طرز حکمرانی کے فروغ اور افغان واپس آنے والے شہریوں کی آبادکاری و معاشرے میں دوبارہ انضمام کیلئے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کی انسانی ضروریات اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے مناسب مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ افغان عوام کو درپیش معاشی اور انسانی مشکلات کم کی جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے عوام کے ساتھ ساتھ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی امن سے رہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی تجارت، رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی کیلئے اہم ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان کے ساتھ معمول کے تعلقات، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کے فروغ کیلئے دہشت گردی کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات، تجارت اور علاقائی رابطوں کیلئے تیار ہے، تاہم افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغان حکام کا تعاون ضروری ہے۔
او آئی سی کا افغانستان رابطہ گروپ افغانستان کی صورتحال پر مسلم ممالک کے درمیان مشاورت اور مشترکہ کوششوں کیلئے ایک اہم فورم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان اس پلیٹ فارم کے ذریعے افغانستان میں امن، انسانی امداد، معاشی بحالی اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر مسلسل زور دیتا رہا ہے۔