فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران معاہدے کا چند گھنٹوں میں اعلان متوقع

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران معاہدے کا چند گھنٹوں میں اعلان متوقع

مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات، شہری مراکز اور معاشی اہداف کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ایک اہم معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے العربیہ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نو نکاتی مجوزہ معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل کرلیا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ ابھی امریکا اور ایران کی حتمی منظوری کا منتظر ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بات کی توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک جلد اس پر رضامندی ظاہر کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر معاہدہ منظور ہوگیا تو اس کے فوری بعد مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی نافذ کردی جائے گی، جس کا اطلاق زمینی، فضائی اور بحری تمام محاذوں پر ہوگا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات، شہری مراکز اور معاشی اہداف کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میڈیا کے ذریعے سخت بیانات، دھمکی آمیز زبان اور پراکسی جنگ یا بالواسطہ محاذ آرائی سے بھی گریز کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں خطے کی اہم سمندری گذرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے یہ علاقے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اس لیے خلیجی ممالک اس پیشرفت کو خطے کے امن کے لیے مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور کسی بھی تنازع کے حل کے لیے ایک مشترکہ میکنزم یا رابطہ نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک براہ راست رابطے کے ذریعے مسائل حل کرسکیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت جنگ بندی کے اعلان کے سات روز بعد دیگر متنازع معاملات پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ان مذاکرات میں ایران کی بعض شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ امریکا کے چند بڑے مطالبات ابھی اس مجوزہ مسودے میں واضح طور پر شامل نہیں ہیں۔ ان مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں موجود مسلح اتحادی گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہیں۔ یہی نکات مستقبل کے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اب تک نہ امریکا اور نہ ہی ایران نے اس مجوزہ معاہدے کی باضابطہ تصدیق یا تردید کی ہے، تاہم خلیجی سفارتی ذرائع اس پیشرفت کے حوالے سے کافی پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump نے ایران پر مزید حملوں کو روکنے کی ہدایت دی تھی تاکہ سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر Anwar Gargash نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے امکانات تقریباً 50 فیصد ہیں اور اس پورے عمل میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور سمندری استحکام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں “امید افزا پیشرفت” ہوئی ہے، جس سے سفارتی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل Syed Asim Munir ایران کے اہم دورے پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں جنگ بندی معاہدے، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔

آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
Comments (0)
Add Comment