سیکیورٹی فورسز کا ‘آپریشن شعبان’ جاری،5 روز میں 79 دہشت گرد ہلاک
منگی ڈیم حملے کے بعد جاری آپریشن شعبان میں 39 خوارج ہلاک ہو چکے، خضدار میں پولیس اسٹیشن پر حملہ، 8 خوارج مارے گئے
منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع کیے گئے "آپریشن شعبان” کے تحت پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ کارروائیاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل جاری
اسلام آباد: منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع کیے گئے "آپریشن شعبان” کے تحت پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ کارروائیاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جس کے بعد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 39 ہو گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 6 اور 7 جولائی کو ہونے والی کارروائیوں میں پہلے ہی 26 دہشت گرد مارے جا چکے تھے، جبکہ تازہ کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں بیک وقت جاری ہیں، جن میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فورسز علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔
دوسری جانب خضدار کے علاقے زیدی میں جمعہ کی صبح دہشت گردوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کی، تاہم پاک فوج اور ایف سی کے دستوں نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کیے گئے فضائی آپریشنز میں مزید پانچ سے چھ دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک مجموعی طور پر 75 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔