اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر مکمل پابندی کی تجویز کو یورپی ممالک کی اکثریت کی حمایت

اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر مکمل پابندی کی تجویز کو یورپی ممالک کی اکثریت کی حمایت

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین دونوں کی نظر میں غیر قانونی ہیں۔ کاجا کالاس

  

کاجا کالاس نے عندیہ دیا کہ پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

 

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی اکثریت نے اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا ہے کہ رکن ممالک کی بڑی تعداد نے اسرائیلی بستیوں سے تجارت روکنے کے حق میں رائے دی ہے، جس کے بعد اس معاملے پر عملی پیش رفت کا امکان بڑھ گیا ہے۔

برسلز میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاجا کالس نے بتایا کہ مختلف تجاویز میں سب سے زیادہ حمایت اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی کے آپشن کو حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین دونوں کی نظر میں غیر قانونی ہیں۔

یورپی کمیشن نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی روابط محدود کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر مشتمل ایک دستاویز رکن ممالک کو پیش کی تھی، جن میں سب سے سخت تجویز مکمل تجارتی پابندی تھی۔

اجلاس کے بعد یورپی یونین کے سفیروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس تجویز کی قانونی اور عملی تفصیلات تیار کریں، جبکہ کاجا کالاس نے عندیہ دیا کہ پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی رکن ممالک نے اس پابندی کو خارجہ پالیسی کے بجائے تجارتی اقدام قرار دینے کی حمایت کی، تاکہ اس کی منظوری کے لیے تمام 27 ممالک کی متفقہ رائے کے بجائے کوالیفائیڈ میجورٹی (Qualified Majority) کافی ہو۔ اس طریقہ کار کے تحت کم از کم 15 رکن ممالک، جو یورپی یونین کی 65 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہوں، کسی فیصلے کی منظوری دے سکتے ہیں۔

بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، اسپین اور سویڈن سمیت متعدد ممالک کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی ایک تجارتی معاملہ ہے، اس لیے اس پر متفقہ منظوری کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے کہا کہ یہ واضح طور پر تجارتی اقدامات ہیں، اس لیے انہیں کوالیفائیڈ میجورٹی کے ذریعے منظور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بیلجیئم اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے یورپی کمیشن پر پیش رفت میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بحث کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے کہا کہ اسرائیلی بستیوں سے تجارت بند کرنا دراصل بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد کے مترادف ہوگا۔

تاہم اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل میں آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین پہلے ہی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کے تحت حاصل رعایتی ٹیرف کی سہولت نہیں دیتی، تاہم مقبوضہ مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب ان مصنوعات پر مکمل پابندی کے مطالبات میں تیزی آ گئی ہے۔

2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی مشاورتی رائے میں بھی اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ریاستوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایسی معاشی سرگرمیوں سے گریز کریں جو اس غیر قانونی صورتحال کو تقویت دیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن کو بعض رکن ممالک کی جانب سے اس معاملے میں پیش رفت روکنے پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین کی قانونی سروس کی رائے کے مطابق اسرائیلی بستیوں سے تجارت محدود یا بند کرنے کے لیے کوالیفائیڈ میجورٹی کافی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر رکن ممالک میں سیاسی عزم موجود ہو تو اس معاملے میں پیش رفت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے یورپی یونین کا متحدہ مؤقف اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

اسرائیلکاجا کالاسیورپی یونین
Comments (0)
Add Comment