حملےنہ روکے تو ایسا فوجی آپریشن کریں گے جس پر امریکا میں سوگ منایا جائے گا: ایران کی امریکی کو سخت وارننگ

حملےنہ روکے تو ایسا فوجی آپریشن کریں گے جس پر امریکا میں سوگ منایا جائے گا: ایران کی امریکی کو سخت وارننگ

امریکی حملوں کے باوجود ایران کا میزائل پروگرام فعال، مزید سخت فوجی کارروائی کی دھمکی، 10 امریکی MQ-9 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران نے امریکا کو خبر درا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملےنہ روکے تو ایسا فوجی آپریشن کریں گے جس پر امریکا میں سوگ منایا جائے گا۔ دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے باوجود اس کا میزائل اور ڈرون پروگرام پوری طرح فعال ہے۔ آئی آر جی سی نے مزید سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے اردن میں 10 امریکی MQ-9 ڈرون تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

تہران: ایران نے امریکا کے خلاف اپنے مؤقف میں مزید سختی لاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے باوجود نہ صرف اس کا میزائل اور حملہ آور ڈرون پروگرام مکمل طور پر فعال ہے بلکہ میزائل سازی کے اہم مراکز بھی اب تک امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا کو مزید سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے اپنی عسکری کارروائیاں بند نہ کیں تو ایران ایسا "افسوسناک فوجی آپریشن” کرے گا جس کے بعد امریکا میں عوامی سوگ منانا پڑے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جارحیت کرنے والے فریق کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ آئی آر جی سی کے مطابق اگر موجودہ جوابی کارروائیاں کافی ثابت نہ ہوئیں تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت فوجی اقدامات کے لیے تیار ہے۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے سے امریکا ایران کے فوجی اور شہری اہداف پر فضائی حملے کر رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی فوج کے زیر استعمال تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق ایرانی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ایک حملے میں ایف-15 طیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا ہینگر تباہ کیا گیا، جبکہ دوسرے حملے میں شپنگ کنٹینرز میں موجود آٹھ نئے MQ-9 ریپر ڈرون مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔

آئی آر جی سی کے مطابق مجموعی طور پر 10 امریکی MQ-9 ڈرون تباہ ہوئے، دو امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ متعدد امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔ تاہم امریکا یا کسی آزاد ذریعے نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

بیان میں آبنائے ہرمز کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ رات جنوبی بحری راستے سے کسی جہاز نے گزرنے کی کوشش نہیں کی، جس کے باعث وہاں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایرانی فوجی اور شہری تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے جاری رکھے، جن کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک اور مسلسل فضائی حملوں کے باوجود ایران کے میزائل سازی کے مراکز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے۔

ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے نفاذ تک ایران مسلسل میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کی تیاری کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ نئے تیار ہونے والے میزائل براہِ راست پیداواری مراکز سے آپریشنل یونٹس کو منتقل کیے جا رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی میزائل ذخائر کو بھی مسلسل دوبارہ بھرا جا رہا ہے۔

ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی اور اس کا میزائل پروگرام پوری طرح فعال ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ جنگ سے قبل ایران کے پاس موجود میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اب بھی محفوظ ہے، جس سے ایران کی طویل المدتی عسکری صلاحیت برقرار رہنے کا تاثر ملتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران نسبتاً کم لاگت میں ڈرونز اور دیگر ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ان ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے امریکا کو لاکھوں ڈالر مالیت کے مہنگے فضائی دفاعی نظام استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں شامل متعدد فوجی دعوے ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع سے منسوب ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہ وضاحت صحافتی توازن اور درست رپورٹنگ کے تقاضوں کے مطابق شامل کی گئی ہے۔

ایران - امریکا - جنگ
Comments (0)
Add Comment