بحیرہ احمر میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، باب المندب کے قریب اہم جزیروں پر قبضہ

بحیرہ احمر میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، باب المندب کے قریب اہم جزیروں پر قبضہ

صنعا: یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہوئے گریٹر حنیش اور لیسر حنیش جزیروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے بعد باب المندب کے قریب اہم بحری راستوں کی سکیورٹی اور عالمی تجارت پر نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے دونوں اہم جزیروں پر قبضہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز حوثیوں کی حالیہ تیز پیش قدمی کو روکنے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں کے دفاع کے لیے دوبارہ منظم ہو رہی ہیں۔

حوثی جنگجو پہلے ہی بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا، میون جزیرے اور باب المندب کے اطراف کے متعدد اہم مقامات پر اپنی موجودگی مضبوط کرچکے ہیں۔ تازہ پیش قدمی سے حوثیوں کو نہ صرف یمن کے ساحلی علاقوں میں مزید اسٹریٹجک گہرائی حاصل ہوگئی ہے بلکہ باب المندب کے قریب بحری نقل و حرکت پر اثرانداز ہونے کی ان کی صلاحیت بھی بڑھ گئی ہے۔

باب المندب کیوں اہم ہے؟

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔ ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہونے والی بڑی مقدار میں تجارتی سرگرمی اس سمندری راستے سے وابستہ ہے۔

بحیرہ احمر میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں تجارتی جہازوں کو طویل متبادل راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین کی لاگت بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات نے توانائی کی ترسیل کے متبادل راستوں کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔

سعودی تیل کی ترسیل بھی خطرے میں

حوثیوں کی نئی پیش قدمی سے سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی توانائی کی ترسیل کے لیے بحیرہ احمر کا راستہ مزید اہم بن گیا ہے۔

اگر بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بھی سکیورٹی خطرات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو اپنی تیل کی برآمدات کے لیے اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

یمن میں حوثیوں کی مسلسل فوجی پیش قدمی نے ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی کی تیاری کے نتیجے میں مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

یمن پہلے ہی کئی برسوں سے جاری تنازع کے باعث شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ نئی لڑائی کی صورت میں مزید شہریوں کے بے گھر ہونے، خوراک اور طبی سہولیات کی قلت پیدا ہونے اور انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر یمن کی حدود تک محدود رہنے کے بجائے عالمی بحری تجارت، توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر حوثی ان اہم جزیروں اور ساحلی علاقوں میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو خطے میں موجود بحری قوتوں اور عالمی تجارتی جہازوں کے لیے سکیورٹی چیلنج مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

باب المندبیمن - حوثی
Comments (0)
Add Comment