طاقتوروں کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ دیا، خیبرپختونخوا غلط پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا ، سہیل آفریدی
دہشت گردی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کی گئی، پختونوں کا دوبارہ خون بہایا جا رہا ہے، ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں میں عوام، پولیس اور فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں: وزیراعلیٰ
پشاور: (نیوز پلس) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جو عوام اور صوبے کے مفاد کے خلاف ہو، طاقتوروں کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ دیا ہے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کی گئی اور ایک بار پھر پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
کرک سے روانگی کے موقع پر جیل چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے جنوبی اضلاع کے عوام کا استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کرک کے غیور عوام سمیت پورے ساؤتھ ریجن نے جس انداز میں لانگ مارچ کے شرکاء کا استقبال کیا، وہ قابل تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ خیبرپختونخوا پر مسلط کی جانے والی دہشت گردی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ ایک مرتبہ پھر پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے، لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں جبکہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں کی جانیں جا رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پہلے بھی دہشت گردی اور بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اب صوبے کو ایک مرتبہ پھر ایسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں عام آدمی عدم تحفظ، بے روزگاری، نقل مکانی اور معاشی تباہی کا شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا کسی صورت ناسمجھی نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے ناقدین کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک کارندہ ٹی وی پر بیٹھ کر انہیں ناسمجھ قرار دیتا ہے، لیکن اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ناسمجھی ہے تو وہ یہ ناسمجھی بار بار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک سے محبت کرنا ناسمجھی ہے تو وہ ایسی ناسمجھی بار بار کریں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کا مخالفین کے مطابق وہ حصہ ہیں، وہ مبینہ طور پر 5300 ارب روپے کی کرپشن کر چکی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال کو سمجھ داری قرار دیا جاتا ہے تو وہ ایسی سمجھ داری کو مسترد کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے وہ پاکستان کو تقسیم کرنا اور معاشرے میں تعصب پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور جن لوگوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، وہ بھی اب ان کے قابو میں نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے، تاہم وہ عمران خان کے کھلاڑی ہیں اور انہوں نے طاقتوروں کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط ایک مخصوص مائنڈ سیٹ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے اور ایک غلط پالیسی کے بعد دوسری غلط پالیسی صوبے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خیبرپختونخوا کو باقی ملک سے الگ کیا جا سکے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں نے ملک پر ایسی جماعت مسلط کر رکھی ہے جس کی وزیراعلیٰ یہ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور آنے والی نسلیں ملک کو اس سوچ کے تحت تقسیم نہیں ہونے دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ چور اور ڈاکو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کو اپنا قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان کا ایک ہی لیڈر ہے جس کا نام عمران احمد خان نیازی ہے اور عمران خان عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 90 فیصد لوگ عمران خان کو چاہتے ہیں اور وہی پاکستان کو موجودہ دلدل سے نکال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان ملک کے اداروں کی عزت اور وقار بھی بحال کرا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان قربان کرنے والے فوجی جوان بھی ملک اور قوم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو فوجی جوان ملک کے لیے شہید ہوتے ہیں، وہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں، تاہم موجودہ نظام کے خلاف ملک بھر میں عوامی بے چینی اور نفرت بھی دکھائی دے رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبر سے کراچی تک لوگ اسلام آباد کی طرف آنا چاہتے ہیں اور حکومت کو عوام کے جمہوری مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وہی پالیسی بننی چاہیے جو عوام کے مفاد میں ہو، خیبرپختونخوا ہر اس پالیسی کے خلاف مزاحمت کرے گا جو عوام کے مفاد کے منافی ہوگی۔
عمران خان کی قید کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیراعظم دلیری کے ساتھ جیل کاٹ رہے ہیں۔ اگر عمران خان کو اقتدار کی لالچ ہوتی تو وہ ایک دستخط کرکے جیل سے باہر آ سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کی جنگ عمران خان کے ساتھ مل کر لڑنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کا پورا خاندان عوام اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں ’چٹ‘ کا انتظار کرتی ہیں جبکہ عمران خان جیل میں عوام کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ غلامی قبول کرنا چاہتے ہیں یا حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا چاہتے ہیں، طاقتور کے سامنے سر جھکانا ہے یا آزادی کی جنگ لڑنی ہے۔
وزیراعلیٰ نے لانگ مارچ کے شرکاء اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صوابی پہنچیں، جہاں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اپنے جمہوری اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور صوبے کے مفادات کے خلاف کسی بھی پالیسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔a