ایران کی سرحدیں بند ہونے کی خبروں کی تردید، پاکستان کے ای فارم طریقہ کار کو تجارتی رکاوٹ قرار دے دیا

ایران کی سرحدیں بند ہونے کی خبروں کی تردید، پاکستان کے ای فارم طریقہ کار کو تجارتی رکاوٹ قرار دے دیا

پاکستان کو ایل پی جی سمیت ایرانی اشیا کی برآمدات پر کوئی پابندی نہیں، رمڈان بارڈر سے گابد آنے والے سیکڑوں ٹرک کلیئرنس کے منتظر، مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد سے رابطے جاری ہیں، رضا امیری مقدم

اسلام آباد: (نیوز پلس) پاکستان میں متعین ایرانی رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے سے متعلق اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایرانی اشیا کی برآمدات، بشمول لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق دوطرفہ تجارت میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ پاکستان کے ای فارم (E-Form) طریقہ کار میں تبدیلیاں اور کارگو کی کلیئرنس میں تاخیر ہے، جن کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

ایرانی سفیر نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نے سرحدوں کی بندش سے متعلق اطلاعات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان جیسے برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ سرحد بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار تجارت پاکستان اور ایران کے اقتصادی تعاون کا اہم حصہ ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہے۔

رضا امیری مقدم نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے ای فارم کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں اور متعلقہ دستاویزی تقاضوں کی وجہ سے ایرانی علاقے سے پاکستان سامان بھیجنے اور تجارتی مال کی کلیئرنس کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

ایرانی سفیر کے مطابق ان مسائل کو حل کرنے اور سرحد کے آر پار سامان کی نقل و حرکت معمول پر لانے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے اور مشاورت جاری ہے۔ ایران نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ متعلقہ طریقہ کار میں حائل مشکلات دور ہونے سے دوطرفہ تجارت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔

ایل پی جی کے سیکڑوں ٹرک کلیئرنس کے منتظر

ایرانی وضاحت میں ایل پی جی لے جانے والے سیکڑوں ٹرکوں کی تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، جو ایران کے رمڈان (Rimdan) بارڈر سے گزر کر پاکستان کے علاقے گابد (Gabd) میں داخل ہوئے تھے۔

بیان کے مطابق ان میں سے کئی سو ٹرک کئی ہفتوں سے کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ سامان اتارنے اور متعلقہ کارروائی مکمل ہونے میں تاخیر کے باعث ٹرکوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے، جس سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایرانی سفیر نے اس صورت حال کو سرحد پار تجارتی سرگرمیوں میں درپیش انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق مسائل کی نشاندہی قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تجارتی سامان کی بروقت کلیئرنس اور نقل و حمل کی بحالی کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان مؤثر رابطہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

دوطرفہ معاہدوں کے تحت تجارت جاری رکھنے پر زور

ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے طے کردہ دوطرفہ معاہدوں کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق تجارتی روابط کا تسلسل دونوں ممالک اور ان کے عوام کے باہمی مفاد میں ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تبادلوں کو فروغ دینے اور تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ تہران نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ موجودہ مسائل پر قابو پانے، سامان کی ترسیل بہتر بنانے اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

ایرانی وضاحت کے مطابق سرحدوں کی بندش سے متعلق اطلاعات اور زمینی سطح پر تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں پیش آنے والی مشکلات کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ موجودہ رکاوٹیں سرحدیں باضابطہ طور پر بند کیے جانے کے بجائے درآمدی دستاویزات، ای فارم کے طریقہ کار اور کارگو کلیئرنس میں تاخیر سے متعلق ہیں۔

تاہم، ای فارم کے طریقہ کار میں تبدیلیوں اور کلیئرنس میں تاخیر سے متعلق ایرانی مؤقف پر پاکستان کے متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہوگا، تاکہ تجارتی تعطل کی وجوہات اور اس کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل صورت حال واضح ہو سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری مشاورت کا مقصد تجارتی رکاوٹیں دور کرنا، ایل پی جی سمیت دیگر اشیا کی ترسیل معمول پر لانا اور سرحد پار اقتصادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اگر متعلقہ انتظامی مسائل حل ہو جاتے ہیں تو اس سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات کم کرنے اور دوطرفہ تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان - ایرانڈاکٹر رضا امیری مقدم - ایران - سفیر
Comments (0)
Add Comment