ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں بھرپور جواب دیں گے، طارق فضل چوہدری
افغان طالبان سے مذاکرات میں ضمانت نہ ملنے پر کارروائی ناگزیر تھی،طارق فضل چودھری
سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کارروائی سے متعلق حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
اسلام آباد: (خاور عباس شاہ) سینیٹ سے خطاب میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھاکہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ، اس کا ایک پس منظر ہے، پاکستان نے باربار افغانستان کوبارڈر پار سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں آگاہ کیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناگاہيں اور تربیت گاہیں ہیں ، افغانستان نے ان طالبان کو سرحد کی دوسری طرف دھکیلنے کے لیے پاکستان سے دس ارب روپے مانگے، ہم یہ رقم دینے کو تیار ہيں لیکن گارنٹی دیں کہ پاکستان میں مداخلت نہيں ہوگی۔
افغانستان میں فضائی کارروائی بارے حکومتی مو قف سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغانستان نے طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کیلئے پاکستان سے 10ارب روپے مانگے ہیں۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے سینیٹ اجلاس میں بتایا کہ وزیر دفاع پاکستان نے افغانستان کے مطالبے پر کہا کہ 10ارب دینے کو تیار ہیں لیکن گارنٹی دیں کہ پھر مداخلت نہیں ہوگی۔ طارق فضل نے کہا پاکستان نے افغانستان کے 3صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، فضائی کارروائی کا ایک پس منظرہے، پاکستان نے بار بار افغانستان کو اپنی سرزمین کے استعمال کو روکنے کا کہا تھا۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہم لاشیں اٹھانے کیلئے نہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے، پاکستان ایئر فورس نے 21فروری کو افغانستان کے 3صوبوں میں کارروائی کی۔
انہوں نے کہا افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں مسلسل جاری تھیں، ترلائی مسجد حملے کے دہشت گرد افغان ہینڈلرز کے زیر کنٹرول تھے، بنوں اور باجوڑ میں بھی خودکش حملے کیے گئے جن میں فورسز کے افسران اور جوان شہید ہوئے، افغان طالبان سے مذاکرات میں ضمانت نہ ملنے پر کارروائی ناگزیر تھی۔
وزیر پارلیمانی امور کے مطابق اسٹرائیکس صرف دہشت گرد پناہ گاہوں اور تربیتی کیمپوں پر کی گئیں، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، دہشت گردی ختم ہونے تک ہمارا آپریشن جاری رہے گا۔