ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار، ضرورت پڑی تو پیشگی کارروائی کریں گے: ترجمان ایرانی فوج

ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار، ضرورت پڑی تو پیشگی کارروائی کریں گے: ترجمان ایرانی فوج  

تہران: ایرانی فوج نے طویل جنگ کے لیے مکمل تیاری اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں پیشگی کارروائی کی صلاحیت رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ اگر دشمن کی جانب سے حملے یا دراندازی کا خطرہ محسوس ہوا تو ایران اپنی سلامتی کے تحفظ اور جارحیت روکنے کے لیے پیشگی آپریشن کرسکتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے حالیہ جنگ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی جنگی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے عرصے کے دوران اہداف کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرنے، موجودہ فوجی سازوسامان کو بہتر بنانے اور نئے ہتھیاروں کو فوجی ڈھانچے میں شامل کرنے پر توجہ دی گئی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ مؤثر اور وسیع جواب دیا جاسکے۔ ایرنا

ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ مسلح افواج کسی بھی ممکنہ جارحیت یا دراندازی کے مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر دشمن کو کارروائی کا موقع دیے بغیر پیشگی آپریشن کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی حکمت عملی میں ممکنہ فوری خطرے کی صورت میں پیشگی دفاعی کارروائی بھی شامل ہے۔

اکرمی نیا کے مطابق ایران نے طویل جنگ کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی ذخائر کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی تیاری صرف جدید ہتھیار رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں تربیت، جنگی تجربات، سازوسامان کی دستیابی اور مسلسل پیداوار بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایرانی فوج پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ اس نے جنگ کے بعد اپنی آپریشنل تیاری مزید بہتر کی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ایران میں میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے درکار مختلف پرزہ جات بھی ملک کے اندر تیار کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی خودکفالت کے ذریعے ایران نے بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنے اور طویل تنازع کے دوران فوجی پیداوار جاری رکھنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں بحری جہازوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری بھی جاری ہے، جس کا مقصد مسلح افواج کی مجموعی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا کے حالیہ بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی فوج اپنی عسکری حکمت عملی میں پیشگی کارروائی کے تصور کو زیادہ نمایاں کررہی ہے۔ ستمبر میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی فوجی حکمت عملی دفاعی انداز سے زیادہ جارحانہ اور پیشگی کارروائی کی جانب منتقل ہوئی ہے اور اگر مستقبل میں کسی دشمن کی جانب سے فوری حملے کا خطرہ محسوس ہوا تو ایران پیشگی آپریشن کرسکتا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے تاہم یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایسی کارروائیوں میں خطرے کی نوعیت، ضرورت اور تناسب کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق پیشگی کارروائی کا مقصد کسی غیر ضروری جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ فوری خطرے کی صورت میں جارحیت کو روکنا اور ملک کا دفاع کرنا ہے۔ ایرنا

انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے حالیہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں اپنی دفاعی منصوبہ بندی، اہداف کے تعین، ہتھیاروں کے استعمال اور فوجی تیاریوں کو ازسرنو بہتر بنایا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ اگر دوبارہ کسی بڑے حملے کا سامنا ہو تو ایرانی افواج پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی، وسعت اور طاقت کے ساتھ جواب دے سکیں۔

ایرانی فوج کی جانب سے طویل جنگ کی تیاری اور پیشگی کارروائی کی صلاحیت کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور نمایاں ہے۔ ایرانی حکام مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ کسی نئی جارحیت کی صورت میں ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ وسیع اور فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے بیان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ تہران آئندہ کسی ممکنہ جنگ کو مختصر مدت تک محدود رکھنے کے بجائے طویل تنازع کے لیے بھی فوجی ذخائر، مقامی دفاعی پیداوار اور پیشگی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمیترجمان - ایران - فوج
Comments (0)
Add Comment