پاکستان کا افغان طالبان کو دوٹوک پیغام، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں حقِ دفاع قرار

پاکستان کا افغان طالبان کو دوٹوک پیغام، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں حقِ دفاع قرار

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 2026ء میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 3,500 سے زائد جانی نقصانات ہوئے، افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے؛ عالمی برادری طالبان حکومت کو جواب دہ بنائے، پاکستان کا مؤقف

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی میزائل حملوں کی بھی شدید مذمت، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اطراف مقدس مقامات کے تحفظ پر زور، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور مکہ دفاعی اتحاد کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد: (نیوز پلس) پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں سے متعلق بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے نہ تو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری کرسکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی ناگزیر ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق صرف 2026ء کے دوران دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 3,500 سے زائد جانی نقصانات ہوچکے ہیں۔ بیان میں اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت بدستور متعدد دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور انہیں کارروائیاں کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

ترجمان نے ان تنظیموں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، فتنۃ الخوارج، بلوچ لبریشن آرمی، فتنہ الہندوستان اور ان سے وابستہ گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ ورکس پاکستان سمیت خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے متعدد شہری دہشت گرد حملوں میں شہید ہوچکے ہیں، جبکہ ان حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، سرپرستی اور عملی کارروائیوں کے حوالے سے افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ یہ سرگرمیاں افغان طالبان حکومت کی نگرانی، سرپرستی اور فعال معاونت کے تحت جاری رہی ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اس وقت خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی جب اس کے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہو۔ پاکستان کے مطابق دہشت گرد حملوں کا مؤثر سدباب ریاست کی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے لاجسٹک معاونت کے مراکز کے خلاف اپنی کارروائیوں کو حقِ دفاع کے تحت اٹھائے گئے اقدامات قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ کارروائیاں ضرورت کے اصولوں کے مطابق اور آخری چارۂ کار کے طور پر کی گئیں، جبکہ ان کا ہدف پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور ان کے معاونتی مراکز تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اپنے ردعمل میں خطرے کی شدت اور دہشت گرد حملوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھا۔ ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران اہداف میں امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی گئی اور اقدامات کا دائرہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی خطرات کی نوعیت کے مطابق رکھا گیا۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا پابند بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت

دریں اثنا، پاکستان نے 24 اکتوبر کو سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں، بشمول مقدس مقامات کے اطراف، حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بیان کے مطابق مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کے تحفظ کو نظرانداز کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مملکت کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔

بیان میں مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کا بھی اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن و استحکام کے فروغ اور سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

افغان طالبانپاکستان- دفتر خارجہ
Comments (0)
Add Comment