اسٹیٹ بینک نے شرح سود 12 فیصد کر دی، 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ
ایران امریکا کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے فیصلے کی حمایت کی
کراچی: (نیوز پلس) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ فیصلہ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے، خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے اور افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ سمیت اہم معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود میں اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے مانیٹری پالیسی فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کی معیشت اور مہنگائی کے منظرنامے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد معاشی حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے باعث مہنگائی کے سابقہ تخمینوں پر نظرثانی کی ضرورت پیش آئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جولائی اور اگست تک توقع تھی کہ سال کے اختتام تک مہنگائی تقریباً 7 فیصد کے آس پاس رہے گی، تاہم عالمی حالات میں تبدیلی کے باعث اس سطح تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) میں بہتری آئی ہے، لیکن توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات آنے والے عرصے میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اجناس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن کے اہداف متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں بہتری کی توقع ہے، جبکہ ترسیلات زر کے فروغ کے لیے متعارف کرائی گئی انعامی اسکیم سے بھی مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ پورے مالی سال کے دوران ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بہتری کا رجحان موجود ہے، تاہم اس کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں۔ رواں مالی سال ملکی برآمدات 32.5 ارب سے 33 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ درآمدات پر دباؤ برقرار رہنے کے باعث درآمدی بل 71 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ درآمدات اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کے باعث بیرونی ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج رہے گا۔
معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا امکان
گورنر اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تین سہ ماہیوں میں معاشی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی، جبکہ ہر سہ ماہی میں نمو کا رجحان نسبتاً مستحکم تھا۔ تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات کے باعث چوتھی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی رفتار کم ہو کر 3.7 فیصد رہ گئی۔
ان کے مطابق مالی سال 2026 کے لیے مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان لگایا گیا تھا، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔
زرعی شعبے سے بہتر کارکردگی کی توقع
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری آئی ہے اور رواں مالی سال کے دوران اس شعبے کی کارکردگی بہتر رہنے کی توقع ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں بہتری مجموعی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دے سکتی ہے، تاہم عالمی منڈی میں توانائی اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، درآمدی بل میں اضافے اور مہنگائی کے ممکنہ ثانوی اثرات کے باعث معاشی استحکام برقرار رکھنا اہم رہے گا۔
شرح سود میں اضافے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کو ایک طرف عالمی توانائی کی قیمتوں اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب معاشی نمو، برآمدات اور زرعی پیداوار میں بہتری برقرار رکھنے کی ضرورت بھی درپیش ہے۔