امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید
پیپلز پارٹی فارم 47کی پیداوا ر،کراچی میں عوامی مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا، میٔر شپ پر قبضہ کیا، حافظ نعیم الرحمٰن
سندھ حکومت کراچی سے وصول شدہ ٹیکسوں کا 5 فیصد بھی کراچی پر خرچ نہیں کرتی، کورنگی و سعدی ٹاؤن میں ممبر شپ کیمپوں سے خطاب
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کو ہد تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی فارم 47 کی پیداوار ہے جس نے کراچی میں عوامی مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا اور مئیر شپ پر قبضہ کیا،آج کراچی کے عوام بے شمار مسائل کا شکار ہیں اور بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔ کراچی کے عوام کے لیے آج تک کے فور منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ صوبائی حکومت کراچی کے عوام کے ساتھ تعصب کر رہی ہے اور کراچی سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کا 5 فیصد بھی کراچی پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک طرف کراچی اور سندھ پر پیپلز پارٹی کو مسلط کیا گیا تو دوسری طر ف ایم کیو ایم جو ایک پولنگ بوتھ بھی نہیں جیت سکی تھی اسے قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئیں، نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ظلم کے نظام کے خلاف جاری تحریک کو مزید تیز کریں گے، عوام جماعت اسلامی کے ممبر بنیں، عوام کی طاقت سے ظالم حکمرانوں کا مقابلہ کریں گے اور قبضہ مافیا سے جان چھڑائیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف بہت جلد پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شب کورنگی کراسنگ اور سعدی ٹاؤن میں جماعت اسلامی کے تحت جاری ملک گیر ممبر شپ مہم کے سلسلے میں لگائے گئے کیمپوں کے دورے کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،لانڈھی ٹاؤن کے چیٔر مین عبد الجمیل،امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ،امیر ضلع ایٔر پورٹ محمد اشرف، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق و دیگرنے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کورنگی اور سعدی ٹاؤن پہنچنے پر پُر جوش نعروں سے شاندار استقبال کیا گیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے شہریوں کو ممبر شپ فارم بھرواکر جماعت اسلامی کا ممبر بنایا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ قانونی طور پر موٹر سائیکل چلانے والے متوسط طبقے سے وابستہ فرد ٹیکس عائد ہی نہیں ہوتا۔ ظلم یہ ہے کہ 140 روپے فی لیٹر ظالمانہ لیوی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ شوگر مافیا کی جانب سے چینی کو ایکسپورٹ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ آئی پی پیز اور شوگر مافیا میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ جو بجلی بنتی ہی نہیں ہے اس کے بل وصول کیے جاتے ہیں۔ عوام کے استعمال کی تمام تر اشیاء پر ٹیکس لگایا جاتا ہے، عوام لوڈ شیڈنگ سے تنگ آکر سولر سسٹم لگارہے ہیں تو حکومت اب دھوپ پر بھی ٹیکس لگانے جارہی ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں پانی، بجلی، گیس سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی کے لیے عذاب بن گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے حب نہر بنائی جو تیسری دن ہی ٹوٹ گئی اورحب نہر کی تعمیر کے وقت کراچی کو اضافی پانی ملنے کے جو دعوے کیے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوئے، بی آر ٹی پروجیکٹ کا افسر 7 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کرکے فرار ہوگیا ہے۔ کراچی کے عوام ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کرپشن اور نا اہلی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ عبد الجمیل نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کو کورنگی آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کو متحد و منظم کرنے اور جو لوگ فارم 47 کی پیداوار ہیں ان کے خلاف جدوجہد کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کی ممبر شپ پورے ملک میں جاری ہے۔ کارکنان عوام کے پاس جائیں اور ممبر شپ ڈرائیو کا حصہ بنائیں۔
مرزا فرحان بیگ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے کراچی کے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوسکتے۔ ہم لانڈھی اور کورنگی کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے، اہلیان کورنگی و لانڈھی جماعت اسلامی کے ممبر بنیں اور ظالم حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کی جدو جہد میں شریک ہوں۔