امریکی و اسرائیلی شدید حملوں کے باوجود ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب ، بلومبرگ رپورٹ

امریکی و اسرائیلی شدید حملوں کے باوجود ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب ، بلومبرگ رپورٹ

مغربی انٹیلی جنس جائزے میں ایران کے جنگ سے پہلے کے گولہ بارود اور دیگر جنگی ذخائر کا تقریباً 75 فیصد برقرار رہنے کا دعویٰ۔

 

واشنگٹن: امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایران اپنی میزائل اور ڈرون سازی کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے میں کامیاب رہا ہے، جس کے باعث تہران اپنے جنگی ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور مزید میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی میڈیا ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی دفاعی صنعت اور میزائلوں کی تیاری سے متعلق یہ جائزے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئے حملے کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

 

بلومبرگ نے معاملے سے واقف حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے متعدد کارخانوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔ ان تنصیبات کے برقرار رہنے سے ایران کے لیے نہ صرف موجودہ ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی پوری کرنا ممکن ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر مزید میزائل تیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائلوں اور بعض اقسام کے جہاز شکن ہتھیاروں کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ تہران کے پاس مزید میزائل تیزی سے تیار کرنے کی صلاحیت بھی برقرار ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ روس ایران کو میزائل فراہم کر رہا ہے، جس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

بلومبرگ کے مطابق امریکی حکام کے ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی اتنی عسکری صلاحیت موجود ہے کہ اگر امریکا دوبارہ فضائی حملوں کا آغاز کرتا ہے تو تہران جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس صورت حال میں ایران کی میزائل صلاحیت، اس کے باقی ماندہ جنگی ذخائر اور ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری کی استعداد کسی بھی ممکنہ نئے تصادم کے دوران اہم عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کے بارے میں تمام جائزے یکساں نہیں ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار جم لیمسن کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے بلومبرگ نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی مہم نے طویل مدتی تناظر میں ایران کی جنگ سے پہلے موجود میزائل سازی کی صلاحیت کے بڑے حصے کو شدید نقصان پہنچایا ہو گا۔

اس جائزے کے مطابق فضائی حملوں کے اثرات کو صرف اس بنیاد پر نہیں جانچا جا سکتا کہ ایران کے پاس اس وقت کتنے میزائل موجود ہیں، بلکہ اس بات کا تعین بھی اہم ہے کہ اس کی دفاعی صنعت کو کتنی دیرپا نقصان پہنچا، پیداواری نظام کس حد تک متاثر ہوا اور ایران کتنی تیزی سے اپنی صلاحیت بحال کر سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں ایران کی موجودہ پیداواری استعداد یا تباہ ہونے والی تنصیبات کی مکمل تعداد کے بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار نہیں دیے گئے۔

بلومبرگ کے مطابق مغربی انٹیلی جنس اداروں کے جائزوں میں جون کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود گولہ بارود اور دیگر جنگی ذخائر کا تقریباً تین چوتھائی حصہ برقرار تھا۔ یہ تخمینہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدید فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران کے جنگی وسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ تاہم یہ تناسب میزائلوں اور ڈرونز کے الگ الگ ذخائر یا ان کی موجودہ عملی تیاری کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کسی بھی ممکنہ نئے حملے کی صورت میں تہران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کا انحصار صرف پہلے سے موجود ہتھیاروں پر نہیں ہوگا، بلکہ میزائلوں کی تیاری، ذخائر کی بحالی اور متعلقہ دفاعی صنعت کے تسلسل پر بھی ہوگا۔ اسی طرح جہاز شکن ہتھیاروں کے ذخائر خطے میں سمندری سلامتی اور اہم بحری راستوں سے متعلق کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئے حملوں سے گریز سے متعلق رپورٹ کا ذکر ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کے لیے ایران کی باقی ماندہ عسکری صلاحیت اور ممکنہ جوابی کارروائی کے خطرات کا اندازہ لگانا اہم ہے۔ تاہم بلومبرگ کی رپورٹ میں نئے حملوں سے گریز کی وجوہات کے حوالے سے مکمل سرکاری وضاحت فراہم نہیں کی گئی، اس لیے انتخابی عوامل کو امریکی پالیسی کا واحد سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مجموعی طور پر بلومبرگ کی رپورٹ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کے بارے میں دو اہم پہلو سامنے لاتی ہے: ایک جانب امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ایران کی دفاعی صنعت کو پہنچنے والے ممکنہ دیرپا نقصانات ہیں، جبکہ دوسری جانب اس کے باقی ماندہ ہتھیاروں کے ذخائر اور پیداواری صلاحیت کی بحالی کے امکانات ہیں۔ ان دونوں عوامل کے باعث ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج اور تہران کی جوابی صلاحیت کا اندازہ لگانا امریکی حکمت عملی کے لیے اہم چیلنج برقرار ہے۔

امریکا - اسرائیل - ایران - جنگ
Comments (0)
Add Comment