امریکی فضائی طاقت کو بڑا دھچکا، ایران جنگ میں 81 طیارے متاثر

امریکی فضائی طاقت کو بڑا دھچکا، ایران جنگ میں 81 طیارے متاثر

سب: کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ نے امریکی فضائی نقصانات کی تفصیلات جاری کردیں، 45 ایم کیو-9 ریپرز ضائع

واشنگٹن:  ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی فضائی بیڑے کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں تباہ یا نقصان کا شکار ہوئی ہیں۔ تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ تعداد صرف مکمل تباہ ہونے والے طیاروں کی نہیں بلکہ ایسے طیاروں کو بھی شامل کرتی ہے جنہیں نقصان پہنچا اور بعض بعد میں دوبارہ آپریشنل کر دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی نقصانات میں سب سے بڑا حصہ MQ-9 Reaper ڈرونز کا ہے، جن میں سے کم از کم 45 ڈرون ضائع ہوئے۔ یہ ڈرون طویل دورانیے کی نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے، اہداف کی نشاندہی اور بعض حالات میں فضائی حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ CRS کی نئی گنتی میں ریپر ڈرونز کی تعداد پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

CRS کی تفصیلات کے مطابق مجموعی 81 متاثرہ فضائی اثاثوں میں 12 ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل، ایک ایف 35 اے لائٹننگ ٹو، دو اے 10 تھنڈر بولٹ ٹو، سات کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر، ایک ای 3 سینٹری، دو ایم سی 130 جے کمانڈو ٹو، ایک ایچ ایچ 60 ڈبلیو، ایک ایم کیو 4 سی ٹرائٹن، تین ایم کیو 1 سیریز، ایک اے ایچ 64 اپاچی، چار اے ایچ 6 لٹل برڈ اور ایک ایم ایچ 60 سی ہاک بھی شامل ہیں۔

ایف 15 ای سمیت جدید جنگی طیاروں کو بھی نقصان

رپورٹ میں امریکی فضائی نقصانات کے مختلف واقعات کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ مارچ میں کویت کے قریب تین ایف 15 ای طیارے مبینہ طور پر اپنے ہی فریق کی فائرنگ کا نشانہ بن کر تباہ ہوئے جبکہ اپریل میں ایران کے اوپر ایک اور ایف 15 ای جنگی طیارہ تباہ ہوا۔

دوسری جانب ستمبر میں اردن کے موافّق السَلتی فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران مزید آٹھ ایف 15 ای طیاروں کو نقصان پہنچا۔ CRS کے مطابق ان طیاروں کو بعد میں مرمت کے بعد دوبارہ آپریشنل کر دیا گیا۔ اس طرح ایف 15 ای کے متاثرہ طیاروں کی مجموعی تعداد 12 تک پہنچ گئی۔

امریکی فضائیہ کے لیے تشویش کا ایک اور پہلو ایف 35 اے لائٹننگ ٹو اور ای 3 سینٹری جیسے اہم طیاروں کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ ایف 35 اے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ ای 3 سینٹری فضائی نگرانی، ابتدائی وارننگ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے اثاثوں کا نقصان محض ایک طیارے کے ضیاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے فضائی آپریشن کی معاون صلاحیتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

MQ-9 ریپر کو سب سے زیادہ نقصان

امریکی فضائی نقصانات میں سب سے نمایاں اضافہ MQ-9 ریپر ڈرونز کا ہے۔ CRS کے مطابق کم از کم 45 ریپر ڈرونز ضائع ہوچکے ہیں۔ پہلے کی CRS جائزہ رپورٹ میں یہ تعداد 24 تھی، تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے باعث تازہ جائزے میں تعداد بڑھا کر 45 کردی گئی۔

ریپر امریکی فوج کے اہم بغیر پائلٹ فضائی نظاموں میں شامل ہے اور اسے طویل فاصلے تک مسلسل نگرانی اور اہداف کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اتنی بڑی تعداد میں ڈرونز کا نقصان امریکی فوج کے لیے صرف مالی نقصان نہیں بلکہ انٹیلی جنس، نگرانی اور فضائی کارروائیوں کی صلاحیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے بھی متاثر

CRS کے مطابق امریکی فضائی کارروائیوں کے دوران سات KC-135 اسٹریٹو ٹینکرز بھی متاثر ہوئے۔ یہ طیارے جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرتے ہیں اور طویل فاصلے کی فضائی کارروائیوں میں بنیادی معاون کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ میں دو KC-135 طیاروں سے متعلق مارچ کے ایک واقعے کا بھی ذکر ہے، جبکہ سعودی عرب میں امریکی اڈے پر ہونے والے حملے کے دوران مزید طیاروں کو نقصان پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں81 طیاروں کا مطلب 81 مکمل تباہ شدہ طیارے نہیں

CRS نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ 81 کا عدد مستقل طور پر تباہ ہونے والے 81 طیاروں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس فہرست میں تباہ، ضائع یا نقصان پہنچنے والے تمام فضائی اثاثے شامل ہیں، جن میں سے بعض کو مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کیا جاچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں مزید معلومات سامنے آنے پر یہ تعداد تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔

اس اعتبار سے 81 طیاروں کا اعدادوشمار جنگ میں امریکی فضائی بیڑے کے مجموعی مادی نقصان کی ایک اوپن سورس تصویر پیش کرتا ہے، نہ کہ مکمل اور حتمی جنگی نقصان کا سرکاری حساب۔

امریکی فضائی برتری کے لیے اہم سوالات

CRS کی رپورٹ نے امریکی فضائی کارروائیوں کے حوالے سے کئی اہم سوالات بھی اٹھائے ہیں، خصوصاً یہ کہ آیا جنگ کے دوران سامنے آنے والی فضائی نقصانات کی شرح امریکی فوج کو اپنی حکمت عملی، جنگی طیاروں کے استعمال، اڈوں کی پوزیشننگ اور فضائی دفاع سے متعلق طریقہ کار میں تبدیلی پر مجبور کرے گی۔

تجزیاتی طور پر 45 MQ-9 ریپرز کا نقصان اور جدید جنگی و معاون طیاروں کو پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والی فضائی مہم میں امریکی فضائی اثاثوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہا۔ تاہم ان اعدادوشمار سے براہ راست یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ امریکی فضائی برتری ختم ہوگئی ہے؛ بلکہ یہ جنگی ماحول میں امریکی فضائی اثاثوں کی کمزوریوں، متبادل صلاحیتوں اور رسد و مرمت کے چیلنجز سے متعلق سوالات کو نمایاں کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ طیاروں اور ڈرونز کی تعداد میں مستقبل میں مزید تبدیلی ممکن ہے کیونکہ جنگی کارروائیوں، نقصان کی تصدیق اور مختلف واقعات سے متعلق معلومات مسلسل سامنے آرہی ہیں۔ یوں 81 فضائی اثاثوں کا موجودہ عدد امریکی فوج کو پہنچنے والے نقصان کا عبوری مگر اہم جائزہ قرار دیا جارہا ہے۔

امریکا - سرویلنس- طیارہایران - امریکا - جنگ
Comments (0)
Add Comment