آبنائے ہرمز امریکی فوج کے لیے قبرستان بن سکتی ہے، پاسدارانِ انقلاب کی وارننگ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل نگرانی اور اثر و رسوخ موجود ہے، اور ایران چاہے تو اس اہم بحری راستے سے تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے ثقافتی و نفسیاتی آپریشنز کے نائب، کیپٹن سعید سیہ سرانی نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی افواج خطے کی صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا بیرونی دباؤ کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی عوام اور حکام کی جانب سے حکم جاری کیا جائے تو ایران آبنائے ہرمز سے اپنی اجازت کے بغیر “ایک لیٹر تیل” بھی گزرنے نہیں دے گا۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے “قبرستان” ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف روایتی جنگی حکمتِ عملی بلکہ جدید اور غیر روایتی جنگی طریقوں کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
کیپٹن سیہ سرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ اگرچہ خطے میں مکمل بحری جنگ کا آغاز نہیں ہوا، لیکن ایران پہلے ہی “اسمارٹ ناکہ بندی” کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے بقول اس حکمتِ عملی کے تحت ایران بحری نقل و حرکت، تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس بیان کو خطے کی صورتحال مزید حساس ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔