Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایران جنگ پر واشنگٹن میں سیاسی محاذ گرم، شومر کی ٹرمپ پالیسی پر شدید تنقید

ایران جنگ پر واشنگٹن میں سیاسی محاذ گرم، شومر کی ٹرمپ پالیسی پر شدید تنقید

ڈیموکریٹک رہنما کا کہنا ہے کہ طویل جنگ کا بوجھ امریکی عوام اور فوجیوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے

واشنگٹن: امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے طویل ہونے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس جنگ کو چند ہفتوں میں ختم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس کی قیمت امریکی عوام اور امریکی فوجی ادا کر رہے ہیں۔

چک شومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ صدر نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ صرف چار سے پانچ ہفتے جاری رہے گی۔ تاہم، شومر کے مطابق اب یہ تنازع کئی ماہ سے جاری ہے اور اس کے اثرات امریکی فوجیوں، ان کے خاندانوں اور عام امریکی شہریوں تک پہنچ رہے ہیں۔

ایران کے خلاف موجودہ امریکی فوجی کارروائیوں کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا۔ اس کے بعد سے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف اوقات میں مختصر مدت کی توقعات ظاہر کی جاتی رہی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر ٹرمپ نے چار سے پانچ ہفتوں کی مدت کی بات کی تھی، تاہم تنازع اس مدت سے کہیں آگے بڑھ گیا۔

شومر نے اپنی تنقید میں امریکی سینیٹ کے ری پبلکن ارکان کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ گزشتہ ہفتے انہیں جنگ کے خاتمے کے لیے ووٹنگ کا موقع ملا تھا، لیکن ری پبلکن سینیٹرز نے جنگ ختم کرنے کی کوشش کے بجائے اسے جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔

انہوں نے ری پبلکن ارکان کو اس صورت حال میں شریکِ جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ شومر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ سینیٹ میں وار پاورز قراردادوں کے ذریعے صدر کے ایران میں فوجی اختیارات محدود کرنے اور امریکی افواج کو واپس بلانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

شومر کا مؤقف ہے کہ طویل ہوتی جنگ نہ صرف امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ امریکی معیشت اور عام شہریوں پر بھی اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ 24 ستمبر کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جنگ کے باعث توانائی اور دیگر اخراجات میں اضافے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 ستمبر کو کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع میں "بہت جلد” کامیابی حاصل کرے گا اور بتایا کہ امریکی حکام تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ذریعے رابطوں میں ہیں۔

تازہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ثالث ممالک مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اہم اختلافات میں ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شامل ہیں۔

یوں ایک طرف امریکی انتظامیہ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے امکانات کا ذکر کر رہی ہے تو دوسری جانب امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسی، اس کے مالی اخراجات اور امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات پر مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں۔ چک شومر کی تازہ تنقید اسی بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کا حصہ ہے، جس میں جنگ کے دورانیے، امریکی فوجی کردار اور تنازع ختم کرنے کے آئینی و سیاسی طریقہ کار پر اختلاف نمایاں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:9 − 5 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More