Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایران کی پڑوسی ممالک کو دوٹوک وارننگ، ہماری پروازیں روکیں گے تو آپ کے طیارے بھی نہیں اڑیں گے

ایران کی پڑوسی ممالک کو دوٹوک وارننگ، ہماری پروازیں روکیں گے تو آپ کے طیارے بھی نہیں اڑیں گے

محسن رضائی کا دوٹوک مؤقف، ایرانی پروازوں پر پابندی کسی صورت قبول نہیں کریں گے

تہران: ایران نے امریکا کی ہدایت پر ایرانی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکنے والے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کی گئی تو تہران بھی جوابی اقدامات کرے گا اور ان ممالک کے ہوائی اڈے معمول کے مطابق پروازوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال نہیں ہوسکیں گے۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے کہنے پر ایرانی پروازوں پر پابندی عائد کرنے والے ممالک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایران اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔

محسن رضائی نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملک امریکی دباؤ یا ہدایت پر ایرانی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکتا ہے تو ایران بھی اس کے خلاف مناسب اور جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری پروازوں پر پابندی لگائیں گے اور امریکا کے ساتھ تعاون کریں گے تو آپ کے ہوائی اڈوں پر بھی کوئی پرواز نہیں ہوگی۔ اگر آپ امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھیں گے۔”

ایرانی عہدیدار کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کی طرف سے ایرانی ایئرلائنز کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے بعد خطے میں ایرانی فضائی رابطوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایران کے لیے پڑوسی اور علاقائی ممالک کی فضائی حدود طویل عرصے سے بین الاقوامی فضائی رابطوں اور مسافر پروازوں کے لیے اہم راستے رہی ہیں، جس کے باعث نئی پابندیوں کے اثرات ایرانی فضائی سفر تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی فضائی نقل و حرکت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز پر پابندیوں کے اعلان کے بعد جارجیا، آذربائیجان، عراق، عمان، قطر اور ترکیہ نے بدھ کے روز ایرانی ایئرلائن کی پروازوں کو روک دیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران سے مختلف علاقائی مقامات کے لیے فضائی رابطوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور ایرانی فضائی کمپنیوں کو متبادل راستوں اور فضائی حدود کے استعمال کے حوالے سے نئی مشکلات کا سامنا ہے۔

تاہم چین نے ایرانی پروازوں پر پابندی عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔ چینی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی پروازوں پر ایسی پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات تصور کرتے ہیں اور ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

چین کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی فضائی پابندیوں کے معاملے پر عالمی سطح پر مکمل یکسانیت موجود نہیں اور بعض ممالک امریکی پابندیوں کے بجائے اپنی آزادانہ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو دی گئی وارننگ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ فضائی حدود اور ہوائی اڈوں تک رسائی صرف مسافر پروازوں ہی نہیں بلکہ علاقائی تجارت، سفری روابط اور بین الاقوامی فضائی راستوں کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

محسن رضائی کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران ایرانی ایئرلائنز پر عائد پابندیوں کو محض ایک تجارتی یا فضائی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ وسیع تر دباؤ کی پالیسی کا حصہ تصور کررہا ہے۔ ایران پہلے بھی امریکی پابندیوں اور دباؤ کے جواب میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پروازوں کو روکنے والے ممالک کے لیے بھی صورتحال پیچیدہ ہوسکتی ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ فضائی رابطوں میں رکاوٹ کے نتیجے میں مسافروں، ایئرلائنز اور علاقائی فضائی راستوں پر اضافی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر ایران اپنی وارننگ پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ ممالک کے ساتھ فضائی رابطے محدود کرتا ہے تو اس کے اثرات دونوں جانب فضائی سفر اور علاقائی رابطوں پر پڑ سکتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ایرانی ایئرلائنز کے خلاف پابندیاں اور اس کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی نے خطے میں فضائی روابط کو ایک نئے تنازع سے دوچار کردیا ہے۔ چین کا پابندیوں کی مخالفت کرنا بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ایرانی پروازوں پر عائد پابندیاں مستقل نوعیت اختیار کرتی ہیں یا علاقائی ممالک ایران کے ساتھ فضائی رابطوں کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:8 + 12 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More