نیٹو اتحاد ٹوٹا تو سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، ترک صدر اردوان
ترکیہ اتحاد کے دفاعی، عسکری اور اسٹریٹجک معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتا آ رہا ہے
نیٹو ترک صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو سربراہی اجلاس میں اتحاد اور یکجہتی پر زور، عالمی سلامتی کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر قرار دیا یے۔
انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، باہمی تعاون اور یکجہتی کو ہر صورت برقرار رکھیں، کیونکہ مضبوط اتحاد ہی اجتماعی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی امن کی ضمانت ہے۔
صدر اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہمی اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور بحرِ اوقیانوس کے دونوں اطراف موجود اتحادی ممالک کو ایسے تمام اقدامات اور بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے جو اتحاد کے اندر اختلافات یا تقسیم پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کی اصل طاقت اس کے رکن ممالک کے درمیان موجود اتحاد، تعاون اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی میں مضمر ہے۔ اگر اتحادی ممالک اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط رکھیں گے تو وہ عالمی سطح پر درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔
صدر اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی سلامتی کا براہِ راست تعلق اتحاد کی مضبوطی سے ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام اتحادی ممالک مشترکہ مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ہر اس معاملے سے گریز کریں جو نیٹو کی وحدت کو متاثر کر سکتا ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیٹو سربراہی اجلاس عالمی امن، علاقائی استحکام اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اجلاس کے دوران ہونے والی مشاورت مستقبل میں عالمی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اجلاس کے دوسرے روز صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے مختلف رکن ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطحی وفود کا خیرمقدم کیا۔ عالمی رہنماؤں کی آمد پر ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا، جس کے بعد روایتی مصافحے، خیرسگالی ملاقاتوں اور گروپ تصاویر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں اتحاد کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی خطرات، عالمی سلامتی کی صورتحال، روس۔یوکرین جنگ، یوکرین کی جاری صورتحال، دفاعی اخراجات، عسکری تعاون اور آئندہ برسوں کے لیے مشترکہ دفاعی حکمت عملی سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
ترک ایوانِ صدر کے مطابق اجلاس کے موقع پر صدر اردوان مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون، اقتصادی تعلقات، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ترکیہ گزشتہ سات دہائیوں سے نیٹو کا ایک فعال اور اہم رکن ہے۔ ملک نے 1952 میں نیٹو کی رکنیت اختیار کی تھی اور اس کے بعد سے اتحاد کے دفاعی، عسکری اور اسٹریٹجک معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ترکیہ کا کردار مستقبل میں بھی نیٹو کے لیے اہمیت کا حامل رہے گا۔
نیٹو سربراہی اجلاس کو عالمی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں رکن ممالک مشترکہ دفاع، علاقائی استحکام اور بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
