Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

یورپ میں جون کی گرمی کی لہروں کے دوران 10,000 اضافی اموات ریکارڈ نئے اعداد و شمار جاری

یورپ میں جون کی گرمی کی لہروں کے دوران 10,000 اضافی اموات ریکارڈ  نئے اعداد و شمار جاری

انگلینڈ اور ویلز میں مئی، جون کی شدید گرمی سے 2,700 سے زائد افراد کی ممکنہ ہلاکتیں ہوئیں

یورپ میں جون کے آخر میں آنے والی شدید گرمی کی لہر کے باعث 10 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس شدت کی ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔

یورپی ادارے یورو مومو کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق شدید گرمی کے دوران ہونے والی 10 ہزار سے زائد اضافی اموات میں سے 9 ہزار سے زیادہ افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زائد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق بیلجیم، برطانیہ، فرانس اور اسپین سمیت کئی یورپی ممالک میں شدید گرمی کے باعث درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں اضافی اموات ہوئیں۔

ماہرین پر مشتمل گروپ ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کا کہنا ہے کہ جون میں آنے والی ہیٹ ویوز موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھیں، جبکہ عالمی حدت نے ان کی شدت اور اثرات میں نمایاں اضافہ کیا۔

دوسری جانب ایک نئی تحقیق کے مطابق مئی اور جون کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں شدید گرمی کے باعث کم از کم 2 ہزار 700 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 21 سے 29 مئی کے دوران شدید گرمی سے تقریباً 550 افراد جبکہ 18 سے 28 جون کے درمیان مزید تقریباً 2 ہزار 200 افراد ہلاک ہوئے۔

ماہرین کے مطابق مئی اور جون میں برطانیہ اور مغربی یورپ دو غیر معمولی ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہے، جن کے دوران انگلینڈ میں درجہ حرارت بالترتیب 35.1 اور 37.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو اس موسم کے لیے ریکارڈ سطح تھی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز زیادہ شدید اور زیادہ بار رونما ہو رہی ہیں۔ اندازے کے مطابق اگر عالمی حدت نہ ہوتی تو ان دنوں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 3 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ کم رہتا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انگلینڈ اور ویلز میں مئی، جون کی شدید گرمی سے 2,700 سے زائد افراد کی ممکنہ ہلاکتیں ہوئیں

انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کے دوران پڑنے والی شدید گرمی کے باعث ممکنہ طور پر 2,700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امپیریل کالج لندن، برطانیہ کے میٹ آفس اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مئی اور جون کی ہیٹ ویوز کے نتیجے میں تقریباً 2,700 اموات ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق 21 سے 29 مئی کے دوران تقریباً 550 جبکہ 18 سے 28 جون کے درمیان 2,200 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جون میں پڑنے والی گرمی نے گزشتہ 50 برس کا ریکارڈ توڑ دیا، جب درجہ حرارت 37.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

تحقیق میں شامل پروفیسر فیڈی اوٹو نے کہا کہ زیادہ تر اموات جون کی شدید ہیٹ ویو کے دوران ہوئیں۔ ان کے مطابق مکمل طور پر صحت مند افراد کو بھی شدید گرمی کے خطرات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں ایسی ہیٹ ویوز زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آسکتی ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ گرمی کی دونوں شدید لہریں "ہیٹ ڈوم” نامی موسمی نظام کے باعث پیدا ہوئیں۔ ان کے مطابق شدید گرمی دل کے دورے، فالج اور دیگر جان لیوا طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے، جبکہ یہ ایک "خاموش قاتل” ثابت ہوسکتی ہے جو بظاہر صحت مند افراد کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More