Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد عثمان کےسنسنی خیز انکشافات

کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد عثمان کےسنسنی خیز انکشافات

دہشت گرد عثمان نے بتایا کہ وہ سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک سات دن پہلے پاکستان داخل ہوئے  تھے

کراچی میں ہفتے کے روز پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں زخمی حالت میں گرفتار افغان دہشتگرد نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں ملوث دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار اور افغانستان میں موجود اس کے نیٹ ورک کے درمیان روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

تفتیش کے دوران گرفتار دہشتگرد عثمان نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد سے پاکستان آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ حملے میں اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق بھی شریک تھے۔ عثمان کے مطابق جانان نے رینجرز کیمپ پر دستی بم پھینکا، جبکہ عبدالہادی مقابلے کے دوران مارا گیا۔

عثمان نے مزید بتایا کہ وہ تمام حملہ آور کارروائی سے سات روز قبل پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے مطابق عبدالہادی کا تعلق ضلع باجوڑ سے تھا، جبکہ پاکستان پہنچنے کے بعد انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں پناہ دی گئی۔ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور بارودی مواد بھی عبدالہادی وزیرستان سے لے کر آیا تھا۔

واضح  رہے کہ ہفتے کی شب کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے دھماکے کے ذریعے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم وہاں تعینات رینجرز اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور ہلاک کر دیے گئے۔ ایک دہشتگرد عثمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لے گا، جبکہ عزمِ استحکام آپریشن کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

دوسری جانب کراچی حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب ایک کامیاب انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ 28 جون کو باجوڑ میں کیے گئے آپریشن کے دوران دہشتگردوں کا اہم کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ ان کے مطابق سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی کارروائیاں کی گئیں، جہاں مزید 25 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ٹھکانے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود تباہ کر دیا گیا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے تمام دہشتگردوں کا تعلق جماعت الاحرار سے تھا، جو پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More