پنجاب میں پاکستان کی پہلی ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی قائم
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومت کا پختہ عزم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف
لاہور: پنجاب میں پاکستان کی پہلی ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی قائم ہو گئی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومت کا پختہ عزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک، زرعی مصنوعات اور ادویات کے شعبے میں معیارات کی نگرانی کے لیے مضبوط اور جدید اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی اور حفظانِ صحت کے عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام ایک سنگِ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے خطے میں سینٹر آف ایکسیلنس کی حیثیت اختیار کرے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی پہلی پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے قیام میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قوم کے لیے ایک بڑی خدمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اس ادارے کے قیام سے شفاف نگرانی کا نظام قائم ہو گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جرائم کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد کی فراہمی کے لیے فرانزک لیبز کا جال بچھایا گیا ہے، جبکہ نئی اتھارٹی فوڈ سیکیورٹی، غذائیت کی فراہمی اور ملاوٹ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے سائنسدانوں اور ماہرین کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا نہ ہونا ایک لمحۂ فکریہ تھا۔ ان کے مطابق جدید لیبز کی عدم موجودگی کے باعث برآمد کنندگان اور صارفین دونوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، جس کا ازالہ اب ممکن ہو سکے گا۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین سائنس دانوں کے لیے تعمیر کیے گئے جدید ہاسٹل کا بھی افتتاح کیا، جسے سائنسی تحقیق اور خواتین کی پیشہ ورانہ سہولتوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
