پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے، ترجمان دفتر خارجہ
ایران ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہے جس نے ماضی میں متعدد چیلنجز کا سامنا کیا ہے، دفتر خارجہ
پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین و فضا استعمال نہ ہونے دینے کے مؤقف پر کاربند ہے ۔ ایران ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہے جس نے ماضی میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں،بھارتی بیان بازی پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، غیرذمہ دارانہ الزامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں،پاکستان ایران کی صورتحال سے اسرائیلی اقدامات دہشتگردی کیخلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں،امریکی ویزوں پر پابندیوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کررہا ہے، امید ہے امریکہ جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا، فترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی کی بریفنگ متعلق پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہےمتعدد چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔
اسلام آباد: (خاور عباس شاہ) پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں،پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں،بھارتی بیان بازی پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، غیرذمہ دارانہ الزامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں،پاکستان ایران کی صورتحال سے متعلق پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے،پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے،اسرائیلی اقدامات دہشتگردی کیخلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں،امریکی ویزوں پر پابندیوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کررہا ہے، امید ہے امریکہ جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا۔
جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران میں امن و استحکام قائم رہے گا، پاکستان صورتِ حال کے پرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کو ایک دوست اور برادر ملک کے طور پر پرامن اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہے، پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہے جس نے ماضی میں متعدد چیلنجز کا سامنا کیا، امید ہے ایرانی حکومت کے اعلان کردہ معاشی امدادی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایرانی قوم ان چیلنجز پر قابو پا کر مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی، پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی سزا کی سخت مذمت کی گئی، پاکستان نے کہا کہ سزا ایک اور من گھڑت مقدمے اور غیر منصفانہ ٹرائل کا نتیجہ ہے، آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو کشمیری عوام کے حقوق کی پرامن جدوجہد پر نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت کے خلاف اقدامات بھارتی غیرقانونی قبضے کو برقرار رکھنے کی کوشش ہیں، خواتین کشمیری رہنماں کو نشانہ بنانا قابل مذمت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، آسیہ اندرابی اور ناہیدہ نسرین کو کئی برسوں سے قید و بند کا سامنا ہے، یہ سزائیں مقبوضہ کشمیر میں جاری منظم جبر و تشدد کی عکاس ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، حق خودارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے، پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی بیان بازی کو پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہیں، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہمارے سامنے ہے۔ افغانستان سمیت خطے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مثالیں ریکارڈ پر ہیں، پاکستان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیا، بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد خطے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کو مہذب بین الریاستی رویوں کی پابندی کرنے کا مشورہ دیا گیا، پاکستان نے کہا غیرذمہ دارانہ الزامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی ویزوں پر پابندیوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کررہا ہے، امید ہے امریکہ جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا، امیگرینٹس پالیسیوں کے حوالے سیہم یوایس اتھارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔امریکا کے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ ایک جاری صورتحال ہے، جائزہ لے رہے ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاک ایران تجارت عالمی تجارتی قوانین کے تحت ہو رہی ہے، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تجارتی تعلق۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے رفقا سے ملاقاتوں میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو اجاگر کیا،
انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ازبکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھی مذاکرات کیے، اس دوران انہوں نے نئے دفتر کی عمارت پر پاکستانی پرچم بھی لہرایا اور رِبن کٹنگ کے ذریعے عمارت کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا، جس کے بعد سیاہ اور سبز درختوں کی پودے لگانے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر اور موثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطرسے ٹیلی فون پر بات ہوئی، دونوں رہنماں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اظہار کا اطمینان کیا، دونوں رہنماں نے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری بحرین کا دورہ کررہے ہیں، صدرمملکت کے دورے کے دوران دوطرفہ اورعلاقائی وعالمی امور زیر بحث آئیں گے،صدرمملکت کا یہ دورہ بحرین کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا مظہر ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق اوآئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان نے صومالی لینڈ سے متعلق اپنے مقف کا اعادہ کیا، نائب وزیراعظم نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی شدید مذمت کی، صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ ناقابل قبول ہے۔
