Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان کی یو اے ای کے جوہری پلانٹ پر حملے کی شدید مذمت

پاکستان کی یو اے ای کے جوہری پلانٹ پر حملے کی شدید مذمت

اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور جوہری تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس حملے کو نہایت تشویشناک اور خطرناک پیش رفت سمجھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق کسی بھی جوہری تنصیب کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مقرر کردہ حفاظتی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں جوہری تنصیبات کے تحفظ اور سلامتی کو انتہائی حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ایسی تنصیبات پر حملے کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ جوہری انفراسٹرکچر پر حملے انسانی جانوں، ماحولیات اور علاقائی استحکام کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی جوہری پلانٹ کو نقصان پہنچے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پڑوسی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی برادری ہمیشہ ایسے اقدامات سے گریز پر زور دیتی رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شہری جوہری تنصیبات کے احترام اور ان کے تحفظ کو عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ اصول کی حیثیت حاصل ہے اور تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ ان اصولوں کی پاسداری کریں۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے فرائض ادا کریں۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے طاقت یا حملے نہیں بلکہ مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی بات چیت ہی مؤثر راستہ ہیں۔

بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق خطے میں پائیدار امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی واحد قابلِ عمل حل ہے جو مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات کو روک سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More