ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کے لئےپاسدارانِ انقلاب سے خفیہ رابطہ کیا: ایگزیوس
امریکی ویب سائٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کے لئےعراقی کردستان کے صدر کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ ان کے واشنگٹن اور تہران، دونوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی اعلیٰ قیادت تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کی خفیہ کوشش کی تھی، جس کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کو اہم رابطہ کار بنایا گیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس (Axios) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ سفارتی کوشش مئی کے وسط میں اس وقت شروع ہوئی جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری تھے۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل سرکاری نمائندوں کے پاس حتمی معاہدہ کرنے کے لیے مکمل اختیار موجود نہیں اور کسی بھی سمجھوتے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی حمایت ناگزیر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے روایتی سفارتی چینل سے ہٹ کر براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے نچیروان بارزانی کو منتخب کیا گیا کیونکہ انہیں واشنگٹن اور تہران دونوں میں اعلیٰ سطح کے روابط حاصل ہیں اور وہ ایرانی حکام کے ساتھ طویل عرصے سے رابطے میں رہے ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق امریکی حکام نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ایک خفیہ ملاقات کے لیے عراق کے کردستان ریجن میں واقع اربیل میں امریکی اور ایرانی حکام کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث یہ ملاقات عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔
امریکی انتظامیہ کو ایرانی مذاکرات کاروں پر تحفظات
رپورٹ کے مطابق مئی کے آغاز میں امریکی مذاکرات کاروں کو یہ خدشات پیدا ہوئے کہ ایرانی وفد کے ارکان جوہری اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات تو کررہے ہیں، تاہم ان کے پاس تہران میں تمام طاقتور حلقوں کی جانب سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار شاید موجود نہیں۔
مذاکرات میں ایرانی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے، جبکہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔
ذرائع کے مطابق جب مذاکرات کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچتے دکھائی دیے اور ایرانی جانب سے جواب میں تاخیر ہوئی تو امریکی حکام نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا ایرانی مذاکرات کاروں کو پاسدارانِ انقلاب کی مکمل حمایت حاصل ہے یا نہیں۔
اسی پس منظر میں امریکی انتظامیہ نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کو نظر انداز کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک براہِ راست رسائی کا راستہ تلاش کیا۔
تلسی گبارڈ کا نچیروان بارزانی سے رابطہ
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 مئی کو اس وقت کی امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے نچیروان بارزانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق گبارڈ نے بارزانی سے درخواست کی کہ وہ اپنے ایرانی روابط استعمال کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک امریکی پیغام پہنچانے میں مدد کریں۔
گبارڈ نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ اس رابطے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری حاصل ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار جن شرائط پر بات چیت کررہے ہیں، آیا پاسدارانِ انقلاب بھی ان شرائط کی حمایت کرتی ہے یا اس کے اپنے الگ مطالبات ہیں۔
نچیروان بارزانی کے ایران سے دیرینہ روابط
نچیروان بارزانی کو اس خفیہ رابطے کے لیے منتخب کرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے ایران سے دیرینہ تعلقات کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بارزانی ایران-عراق جنگ کے دور میں ایران میں مقیم رہے اور تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ فارسی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور ایرانی حکومت کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں سمیت پاسدارانِ انقلاب کے سینئر حلقوں میں بھی ان کے روابط موجود ہیں۔
بارزانی نے امریکی درخواست قبول کرتے ہوئے اپنے ایرانی روابط کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب تک پیغام پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے براہِ راست جنرل احمد واحدی سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد 14 مئی کو پاسدارانِ انقلاب کا ایک عہدیدار اربیل میں نچیروان بارزانی کے دفتر پہنچا، جہاں محفوظ اور خفیہ رابطے کے لیے انکرپٹڈ فون استعمال کیا گیا۔
جنرل واحدی کا مذاکرات کی حمایت کا پیغام
رپورٹ کے مطابق بارزانی نے جنرل واحدی سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا پاسدارانِ انقلاب ایرانی مذاکرات کاروں کے مؤقف اور مذاکراتی عمل سے متفق ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق جنرل واحدی نے جواب دیا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ ہیں اور پاسدارانِ انقلاب بھی مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی حمایت کرتی ہے۔
اس رابطے کے فوراً بعد بارزانی نے امریکی انٹیلی جنس حکام سے دوبارہ رابطہ کیا اور انہیں ایرانی جانب سے ملنے والے جواب سے آگاہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد امریکی حکام نے وائٹ ہاؤس کو بریف کیا، جس سے واشنگٹن کو یہ تاثر ملا کہ ایرانی مذاکراتی عمل کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی کسی حد تک حمایت حاصل ہے۔
اربیل میں خفیہ ملاقات کی امریکی تجویز
ذرائع کے مطابق اس رابطے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے نچیروان بارزانی سے درخواست کی کہ وہ اربیل میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ سطح کے مذاکرات کاروں کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی میزبانی کریں۔
ایرانی حکام نے مبینہ طور پر اس تجویز کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم انہیں اپنی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق تھے۔
ایرانی جانب کو خدشہ تھا کہ عراقی کردستان میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے متعدد ذرائع موجود ہیں اور اگر ایرانی اعلیٰ عہدیدار اربیل پہنچتے ہیں تو انہیں اسرائیلی کارروائی یا نگرانی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
ان سکیورٹی خدشات کے باعث مجوزہ خفیہ ملاقات آگے نہ بڑھ سکی۔
پاکستان اور قطر کا سفارتی کردار
دریں اثنا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے پاکستان اور قطر بھی سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک فریقین سے رابطوں کے ذریعے مذاکرات کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ نچیروان بارزانی نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے دوبارہ رابطہ کیا اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایسے غیر رسمی اور خفیہ سفارتی راستوں کو اہمیت دے رہا ہے جن کے ذریعے ایرانی طاقت کے مختلف مراکز تک براہِ راست رسائی حاصل کی جاسکے۔
آبنائے ہرمز بدستور بڑا تنازع
تاہم سابق امریکی مشرقِ وسطیٰ مشیر بریٹ میک گرک کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات میں آبنائے ہرمز سے متعلق تہران کی پالیسی ایک اہم مسئلہ ہے۔
میک گرک، جو چار امریکی صدور کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق مشیر رہ چکے ہیں، کے مطابق مستقبل قریب میں ایران کے آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی مسئلہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی مستقل معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل اور خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
یوں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک خفیہ رسائی کی یہ کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے صرف سرکاری مذاکراتی وفد پر انحصار کرنے کے بجائے تہران میں طاقت کے دیگر مراکز کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم اربیل میں مجوزہ خفیہ ملاقات کا نہ ہو پانا اور آبنائے ہرمز سمیت دیگر بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار رہنا امریکا اور ایران کے درمیان مستقل سمجھوتے کے لیے اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔
