Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

قطر میں زیرحراست 3 پائلٹس کو خاندانوں سے رابطے کی اجازت دی جائے، ایران کا مطالبہ

قطر میں  زیرحراست 3 پائلٹس کو خاندانوں سے رابطے کی اجازت دی جائے، ایران کا مطالبہ

سینٹ کام ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تین ایرانی پائلٹ زندہ ہیں، قطری تحویل میں ہونے کا دعویٰ

تہران: ایرانی انٹیلی جنس سے منسوب ایک اہم دعوے میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کام ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے والے تین ایرانی Su-24 جنگی طیاروں کے پائلٹ ہلاک نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں اور قطر کی تحویل میں ہیں۔ یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد خطے میں جاری جنگی صورتحال اور ایران و قطر کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق مذکورہ تینوں پائلٹوں کو اس سے قبل لاپتا ہونے کے بعد مردہ تصور کیا جا رہا تھا، تاہم نئی انٹیلی جنس معلومات میں ان کے زندہ ہونے اور قطری حکام کی تحویل میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے قطر کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تینوں پائلٹوں کو ان کے اہل خانہ سے فوری رابطے کی اجازت دے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر پائلٹ قطری تحویل میں ہیں تو ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت اور موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں پائلٹ ایک ایسے فوجی آپریشن میں شریک تھے جس میں امریکی سینٹرل کمانڈ، جسے سینٹ کام (CENTCOM) کہا جاتا ہے، کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ Su-24 ایران کے فضائی بیڑے میں شامل ایک پرانا مگر جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا لڑاکا بمبار طیارہ ہے، جسے ایران ماضی میں مختلف فوجی آپریشنز میں استعمال کرتا رہا ہے۔

پائلٹوں کے مبینہ طور پر قطر کی تحویل میں ہونے کا دعویٰ اس لیے بھی اہم ہے کہ قطر خطے میں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھنے والا ملک ہے۔ قطر میں امریکی فوج کی اہم تنصیبات بھی موجود ہیں، جبکہ دوحہ ماضی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اگر ایرانی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ معاملہ ایران، قطر اور امریکا کے درمیان ایک حساس سفارتی مسئلہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جنگی کارروائی میں حصہ لینے والے فوجی پائلٹوں کی گرفتاری یا حراست بین الاقوامی قوانین اور جنگی قیدیوں سے متعلق ضوابط کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا سکتی ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے پائلٹوں کے اہل خانہ سے فوری رابطے کے مطالبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس معاملے کو انسانی اور سفارتی دونوں سطحوں پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اگر پائلٹ واقعی قطری تحویل میں ہیں تو انہیں کس حالات میں گرفتار کیا گیا اور آیا وہ کسی فوجی یا انٹیلی جنس کارروائی کے دوران قطر پہنچے تھے۔

دوسری جانب، قطر کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہ ہونے کے باعث پائلٹوں کی موجودہ حیثیت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ جنگی حالات میں فوجی اہلکاروں کے لاپتا ہونے، ہلاک ہونے یا گرفتار کیے جانے سے متعلق اطلاعات اکثر مختلف ذرائع سے متضاد شکل میں سامنے آتی ہیں۔

اس دعوے کی تصدیق کی صورت میں تین ایرانی پائلٹوں کی ممکنہ گرفتاری ایران کے لیے ایک اہم معاملہ بن سکتی ہے، جبکہ قطر کو بھی اس صورتحال میں انتہائی محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ آنے والے دنوں میں قطر یا ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ بیان اس معاملے کی حقیقت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More