سعودی عرب کی ایشیا کیلیےخام تیل کی قیمت میں 26 برس کی سب سے بڑی کمی
سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے اگست کے لیے اپنے اہم خام تیل عرب لائٹ کی سرکاری فروختی قیمت میں 1.50 ڈالر فی بیرل کمی کر دی
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمت میں گزشتہ 26 برس کی سب سے بڑی ماہانہ کمی کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے اگست کے لیے اپنے اہم خام تیل عرب لائٹ کی سرکاری فروختی قیمت میں 1.50 ڈالر فی بیرل کمی کر دی ہے۔ جولائی میں یہی خام تیل عمان اور دبئی بینچ مارک کے مقابلے میں 9.50 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت کیا جا رہا تھا، تاہم اب اسے 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر فروخت کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ فیصلہ خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی میں اضافے، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کی بحالی اور عالمی منڈی میں رسد بہتر ہونے کے باعث کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 سے 25 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔
حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران اس اہم راستے پر خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی تھیں۔ ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہتی تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی تھی۔
اس دوران سعودی عرب، عراق، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کو اپنی برآمدات کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے، جبکہ کئی تیل بردار جہازوں نے اپنے سفر معطل کر دیے تھے۔ اس صورتحال نے چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی درآمد کنندگان کے لیے ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔
اب قیمتیں کیوں کم ہو رہی ہیں؟
جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آنے سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔ سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی ترسیل بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ پیداوار میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اوپیک پلس نے اگست کے لیے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دے دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے جس مارکیٹ کو سپلائی بحران کا سامنا تھا، وہ اب اضافی رسد کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے سعودی عرب نے ایشیائی منڈی میں اپنا حصہ برقرار رکھنے کے لیے قیمتوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے چین، بھارت، پاکستان، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو آئندہ مہینوں میں ایندھن کی درآمدی لاگت کم ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
فی الحال برینٹ خام تیل تقریباً 72 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے دوران ریکارڈ ہونے والی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔
