Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

خون کا بدلہ خون؛ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرو؛ شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں نعرے بازی

خون کا بدلہ خون؛ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرو؛ شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں نعرے بازی

دیواروں پر بھی امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے تحریر کیے گئے تھے

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازہ جنازہ اور سوگ کی مرکزی تقریب کے دوران امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی  گئی .

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع اور نمازِ جنازہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی، جبکہ بعض مقررین اور شرکا کی جانب سے ان کے قتل کے مطالبات بھی سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شرکا سیاہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور ایرانی پرچموں کے ساتھ ایسے بینرز اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت نعرے اور قتل کے مطالبات درج تھے۔

جلوس کے راستوں پر بھی مختلف مقامات پر ایسے بینرز آویزاں کیے گئے تھے جن میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ دیواروں پر بھی امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے تحریر کیے گئے تھے۔

تقریب کے میزبان ایرانی شاعر محمد رسولی نے اپنے خطاب کے دوران امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے لگوائے۔ بعد ازاں انہوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ "دنیا کا سب سے بڑا بدبخت انسان (ٹرمپ) اب تک زندہ کیوں ہے؟” جس پر شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی۔

اپنی تقریر میں محمد رسولی نے مزید کہا کہ "جس شخص نے میرے امام کو قتل کیا، اسے کیوں نہ مارا جائے؟ اگر ہم اپنے رہبر کے قاتل کو قتل نہ کریں تو یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہوگی۔”

رپورٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سرکاری تقریب میں امریکی صدر کے خلاف اس قدر براہِ راست اور سخت زبان کا استعمال غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

اجتماع میں شریک بعض افراد نے بھی امریکا اور اسرائیل سے انتقام لینے کے مطالبات کیے۔ ایک نوجوان، غلام رضا صابونی، نے کہا کہ "وہ ہمارے امام کو قتل کر گئے، اب ہمیں بھی ان کے رہنما ٹرمپ کو قتل کرنا چاہیے۔”

واضح رہے کہ 2020 میں بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون کارروائی میں ہلاکت کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، اور اس واقعے کے بعد ایرانی حکام اور مختلف حلقوں کی جانب سے امریکی قیادت کے خلاف سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More