جنید انور چوہدری کا پاکستان میری ٹائم انرجی سٹی کے قیام کا اعلان
مجوزہ انرجی سٹی میں عالمی شراکت داروں کو تیل، مائع قدرتی گیس اور مائع پیٹرولیم گیس ذخیرہ کرنے اور آگے برآمد کرنے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، وفاقی وزیر
اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کا ذخیرہ اور دوبارہ برآمد کیلئے ”پاکستان میری ٹائم انرجی سٹی“ (پی ایم ای سی) کے قیام کا اعلان کیا ہے جسے ملکی و عالمی توانائی ضروریات پوری کرنے اور پاکستان کے معاشی دائرہ کار کو وسعت دینے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے ملکی ساحلی پٹی پر تین سے چار نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے مقامات کی نشاندہی سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی خطے میں کشیدگی کے باوجود غیر ملکی ٹرانس شپمنٹ کارگو کی سہولت فراہم کر کے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے اور اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کو توانائی لاجسٹکس کے ایک اہم علاقائی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر بحری امور کا ”سو سالہ وژن 2047-2147“ کے تحت 12 رکنی کثیر ادارہ جاتی کمیٹی قائم کی گئی، جو نئی گہرے سمندر کی بندرگاہوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کرے گی۔ کمیٹی کو مستقبل میں بحری شعبے کی توسیع اور اقتصادی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
جنید انور چوہدری نے کہا کہ مجوزہ انرجی سٹی میں عالمی شراکت داروں کو تیل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ذخیرہ کرنے اور آگے برآمد کرنے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ضروریات اولین ترجیح رہیں گی تاہم یہ منصوبہ عالمی طلب کو بھی پورا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس انرجی سٹی کو بندرگاہی انفراسٹرکچر کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کمیٹی کو ہدایت دی کہ منصوبے کے لیے موزوں اراضی کی نشاندہی کا عمل فوری شروع کیا جائے اور ایک جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جائے، جبکہ منصوبے کے باقاعدہ آغاز سے قبل تمام متعلقہ فریقین خصوصاً صوبائی حکومتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے اس منصوبے کی معاشی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی عدم استحکام کے دوران یہ انرجی سٹی ملک کے لیے خاطر خواہ آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے اور سپلائی چینز کو بلا تعطل برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستانی بندرگاہیں ٹرانس شپمنٹ کی ضروریات پوری کر رہی ہیں، اسی طرح یہ انرجی سٹی عالمی توانائی تقاضوں کو بھی پورا کرے گی۔وزیر بحری امور نے کہا کہ بڑی بندرگاہوں کی معاونت کے لیے چھوٹے توانائی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، جنہیں پائپ لائنز، سمندری راستوں اور ری ایکسپورٹ نظام کے ذریعے منسلک کیا جائے گا تاکہ سپلائی لائنز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران پورٹ قاسم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل رئیر ایڈمرل محمد خالد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی بندرگاہوں کے لیے مقامات کی نشاندہی کے ضمن میں ڈیٹا اکٹھا کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی جائزوں، ہائیڈروگرافک میپنگ، ماحولیاتی پہلوؤں، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری کے امکانات پر مشتمل جامع فزیبلٹی رپورٹ جلد وزارت کو پیش کر دی جائے گی۔
