Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت وتوہین آمیز شکست کیلئے تیار رہے،صدر مملکت آصف علی زرداری

بھارت جنگی میدانوں سے  بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت وتوہین آمیز شکست کیلئے تیار رہے،صدر مملکت  آصف علی زرداری

پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے،پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

 اسلام آباد:  صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنگ کو آخری حل قرار دیتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت و توہین آمیز شکست کے لیے تیار رہے۔ صدرمملکت نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بناناہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔

پیرکو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب میں صدرمملکت نے واضح کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ہم آپ کے لیے تیار ہیں، میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ جنگی میدانوں سے نکل کر بامعنی مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ علاقائی سلامتی کا یہی واحد راستہ ہے، بھارت کو ہماری بات توجہ سے سننی چاہیے، پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے اراکین شریک تھے جبکہ گیلریوں میں صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ اور سفارت کار موجود تھے۔ صدر مملکت نے جو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر نویں بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، کشمیر اور فلسطین کے مسائل، خلیج کے خطے میں جاری کشیدگی، معرکہ حق اور غضب للحق آپریشنز، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، معیشت، صوبائی خودمختاری اور غربت سمیت قومی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب تک کشمیری عوام بھارت کے ناجائز اورغاصبانہ قبضے سے آزادی حاصل نہیں کرتے اس وقت تک جنوبی ایشیا میں کوئی بھی آزاد اور محفوظ نہیں ہو سکتا۔ صدرمملکت نے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

 انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہاربھی کیا۔صدرمملکت نے متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت، قطر اور سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کی بھی مذمت کی اور خطے کو گہرے بحران سے بچانے کے لیے مذاکراتی حل اختیار کرنے، امن اور ضبط و تحمل کا راستہ اپنانے پر زور دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جتنی جلد خطے میں استحکام واپس آئے گا، اتنی ہی جلد دنیا زندگیوں اور مجروح اعتماد کی بحالی کے کام کی طرف لوٹ سکے گی۔

 انہوں نے زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور تمام برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ معرکہ حق کاذکرکرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کی جانب سے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا تاہم بعد میں مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے حملے کو ایک تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا،اسی طرح 26 فروری کی رات افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں مسلح افواج نے فیصلہ کن کارروائی کی۔

صدر مملکت نے کہاکہ سیاسی قیادت متحد رہی اور عوام ثابت قدم رہے، دونوں کامیاب فوجی مقابلوں پر فوج، فضائیہ، بحریہ، رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیس سروسز اور انٹیلی جنس اداروں سمیت سکیورٹی فورسز کے مشکورہیں۔ صدرنے کہاکہ جب وہ شہید فوجیوں کے اہل خانہ سے ملنے گئے تو انہیں وہی دکھ محسوس ہوا جو انہیں اپنی اہلیہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت ہوا تھا۔

معرکہ حق کے حوالہ سے صدر مملکت نے کہاکہ یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی یہ بحران کے وقت ہمارے قومی عزم کا اظہار تھا، ہم نے بھارت کی جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کیا اور عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر سرخرو ہو کر ابھرے،ہمارے فیصلہ کن اور اصولی موقف کو عالمی دارالحکومتوں نے بلا شبہ تسلیم کیا۔

 بھارتی رہنمائوں کی جانب سے ایک اور جنگ کی تیاری کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ علاقائی امن کے تاحیات داعی کے طورپر وہ اس کی سفارش نہیں کریں گے تاہم اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہیں گے کہ کوئی بھی جارح ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہے، پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور جب ضرورت پڑے تو فیصلہ کن انداز میں اپنا دفاع کرنا بھی جانتا ہے۔ غضب للحق آپریشن کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور دراندازیوں کے ردِعمل میں فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا، ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے،کوئی ریاست اپنی سرزمین پر مسلسل حملے برداشت نہیں کرتی ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھائی ہے۔

صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے، ہم کسی بھی داخلی یاخارجی فریق کو ہمسایہ علاقے کو ہماری سلامتی کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنے دیں گے، پاکستان اور دوست ممالک کی متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود افغان طالبان حکومت دوحہ میں کیے گئے وعدوں کے برخلاف القاعدہ، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتی رہی ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ انہیں چاہیے کہ وہ اُن دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں جو تنازعہ اور جنگی معیشت پر پلتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز افغانستان کے بچوں کو خوراک نہیں دے گی اور نہ ہی قومی یکجہتی کے مواقع پیدا کرے گی، میں انہیں مشورہ دوں گا کہ کسی اور ملک کے عزائم کے لیے میدانِ جنگ بننے سے گریز کریں، پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کو اپنا سمجھا اور کبھی مذاکرات سے منہ نہیں موڑا۔

پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے حالیہ پاکستان بھارت کشیدگی کم کرنے میں دونوں ممالک کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان اور امریکہ نے سٹریٹجک تعاون، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے نئے دروازے کھولے ہیں اور آنے والا سال مزید نتیجہ خیز ہونے کی توقع ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین کے ساتھ آہنی دوستی تمام شعبوں میں نئی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے اور سی پیک 2.0 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔ انہوں نے معرکہ حق کے دوران پاکستان سے یکجہتی پر چین اور مشترکہ سلامتی و رابطہ کاری کے مقاصد کو آگے بڑھانے پر صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔ خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکیہ کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات کو سراہتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان سعودی سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ فلسطینی عوام کی مشکلات اور غزہ کی تباہی کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مملکت نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور دارالحکومت القدس الشریف پرمشتمل آزاد اور غیر منقسم فلسطینی ریاست کے قیام کی پاکستان کی غیر متزلزل اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہونے جا رہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ کہ دریائوں کے بہائو میں بھارت کی چھیڑ چھاڑ اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا کھلی آبی دہشت گردی ہے جس کے ذریعے اہم آبی وسائل کو سیاسی دبائو کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی زرعی معیشت خطرے میں پڑ رہی ہے اور بین الاقوامی و انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، یہ یکطرفہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہے، پاکستان علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے آبی حقوق کا غیر متزلزل اتحاد، عزم، طاقت اور قانونی وضاحت کے ساتھ دفاع کرے گا۔ صدرآصف علی زرداری نے نے کہا کہ صوبائی خودمختاری نے شراکتی طرز حکمرانی کو مضبوط کیا ہے کیونکہ مضبوط وفاق کے لیے مرکزیت نہیں بلکہ ہم آہنگی درکار ہے اور مشترکہ مفادات کونسل جیسے آئینی فورمز کو موثر انداز میں کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے قدرتی وسائل، مالیاتی تقسیم، توانائی کے اشتراک اور آبی نظم و نسق سے متعلق امور کو مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ سال ایک منصفانہ اور متوازن قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے منتظر ہیں۔ بلوچستان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی شورشوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کی حقیقی سماجی اور معاشی شکایات کا ازالہ بھی کیا جا رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کی ترقی میں مکمل شراکت دار ہیں اور رہیں گے۔ ملکی معاشی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے صدرمملکت نے معیشت کو عملی طور پر دیوالیہ پن کی حالت سے نکالنے پر حکومت کی کاوشوں کو سراہا اور بہتر ہوتے معاشی اشاریوں کا حوالہ دیا۔ صدر مملکت نے کہاکہ یہ ایک طویل سفر کا پہلا قدم ہے جو پائیدار اور عوام دوست ترقی کی طرف جاتا ہے۔ ہمارے تنخواہ دار طبقے، پنشنرز، مزدور اور چھوٹے تاجر ایک طویل آزمائش سے گزرے ہیں۔ اگلا مرحلہ لہٰذا جامع ترقی، روزگار کے مواقع اور براہ راست ریلیف پر مرکوز ہونا چاہیے اور ٹیکس و اخراجات میں شفافیت، ٹیکس کے دائرہ کارمیں توسیع اور معیشت کی تشکیل نو کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت اپنانا چاہئے۔ صنعتی بحالی کے لیے توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کو پیشگی شرط قرار دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، آبی نظم و نسق اور مربوط پالیسی ناگزیر تقاضے ہیں۔

 صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دے کر غریب طبقات کو بااختیار بنایا جائے، خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، ان کی حفاظت، ڈیجیٹل رسائی اور مالی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین پسندی اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس قوم کو متفقہ آئین دیا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط بنایا۔

صدر مملکت نے کہاکہ صدر کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے انہوں نے یکطرفہ طور پر ایوان صدر کے اختیارات 1973ء کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوانوں کو واپس کر دئیے، تاریخی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آج ایوان صدر وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر کھڑا ہے، ایوان صدروفاقی اکائیوں کے درمیان ایک پل اور ان آئینی قوانین کا محافظ جو ہم سب کو باہم جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز کے ساتھ خودمختاری کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بناناہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔صدر مملکت نے کہاکہ آئیے آزمائش کی گھڑیوں میں دکھائی گئی یکجہتی کو برقرار رکھیں، آئیے اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ آئیے یقینی بنائیں کہ معاشی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں ملکی سطح پر ریلیف میں تبدیل ہوں۔ آئیے اپنی سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے اندرون ملک مواقع پیدا کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More