ایران کی مالی شہ رگ کاٹنے کا امریکی دعویٰ، حقیقت یا محض تاثر؟
تہران: (تجزیاتی رپورٹ) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی مالی پابندیوں کو واشنگٹن کی جانب سے تہران کی ’’اہم مالی شریانیں‘‘ کاٹنے کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم ایران کے طویل عرصے سے جاری پابندیوں سے نمٹنے کے لیے متبادل تجارتی اور مالیاتی راستے اختیار کرنے کے باعث امریکی دعوے کی حقیقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ واشنگٹن نے ترکی کے سرمایہ کاری بینک گولڈن گلوبل اور اس کی دو ذیلی کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق مذکورہ مالیاتی گروپ نے چین سے ایران کی تیل کی آمدنی ترکی منتقل کرنے، اس کے ایک حصے کو نقد رقم اور سونے میں تبدیل کرنے اور بعض ایرانی اداروں کو بینکاری سہولیات فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی خبردار کیا کہ آئندہ ہفتے ایک اور بینک کو پابندیوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جبکہ امریکا اس وقت تک ایسے اقدامات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے جب تک دوسرے ممالک ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون ترک نہیں کرتے۔
امریکی پابندی عائد کیے جانے کی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم کسی ایک بینک کو پابندیوں کی زد میں لانے اور پورے ملک کی ’’مالی شہ رگیں کاٹ دینے‘‘ میں واضح فرق ہے۔ ایران کئی برس سے سخت ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے اور اسی دوران اس نے اپنے مالیاتی اور تجارتی نظام کے ایک بڑے حصے کو ان پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تبدیل کیا ہے۔
تہران اپنی بیرونی تجارت کے لیے کسی ایک بینک، ایک مالیاتی راستے یا کسی ایک ملک پر مکمل انحصار نہیں کرتا۔ غیر ڈالر کرنسیوں میں تجارت، بالواسطہ لین دین، بارٹر سسٹم، درمیانی کمپنیوں کے ذریعے تجارت اور مختلف ممالک کے ساتھ مالی و تجارتی روابط ایران کی جانب سے اختیار کیے گئے ان طریقوں میں شامل ہیں جن کا مقصد امریکی پابندیوں کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔
اس لیے کسی ایک مالیاتی راستے کو بند کرنا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ ایران کے تمام مالیاتی ذرائع بھی ختم ہوگئے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گولڈن گلوبل کو نئی پابندیوں کا نشانہ بنانا خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورک میں اب بھی ایسے راستے موجود ہیں جنہیں امریکا تلاش کرکے محدود کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر ایران کی تمام ’’مالی شریانیں‘‘ پہلے ہی مکمل طور پر منقطع ہوچکی ہوتیں تو نئے بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی واسطوں کو مسلسل پابندیوں کا نشانہ بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
اس تناظر میں امریکی اقدامات کو ایران کی معیشت کے مکمل انہدام کے بجائے تہران کے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک کو مرحلہ وار محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب اسکاٹ بیسنٹ کے تیل کی قیمتوں سے متعلق اندازوں نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے پیش گوئی کی کہ عالمی منڈی میں رسد بڑھنے کی صورت میں خام تیل کی قیمت 40 سے 50 ڈالر فی بیرل تک آسکتی ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی اس وقت اس اندازے کی مکمل تائید کرتی دکھائی نہیں دیتی۔
جمعہ کی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جبکہ ایک ہفتے کے دوران قیمت میں 6 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح موجودہ قیمت امریکی وزیر خزانہ کے اندازے سے تقریباً دوگنا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ فرق اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی کسی ایک حکومت کے فیصلوں کے تابع نہیں۔ جنگی حالات، جغرافیائی سیاسی خطرات، بحری راستوں کی سلامتی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات اور سرمایہ کاروں کی مارکیٹ توقعات سمیت متعدد عوامل خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا ایک اہم مقصد صرف ایرانی اداروں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ دیگر ممالک کے بینکوں اور کمپنیوں کو بھی تہران کے ساتھ کاروباری روابط سے دور رکھنا ہے۔ ثانوی پابندیوں کے ذریعے واشنگٹن دراصل اپنی مالیاتی طاقت کو امریکی سرحدوں سے باہر تک پھیلانے اور غیر ملکی اداروں کو ایران کے ساتھ تجارت اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس پالیسی سے ایران کو حقیقی اقتصادی مشکلات کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔ مالیاتی پابندیوں کے نتیجے میں رقوم کی منتقلی کے راستے محدود ہوتے ہیں، غیر ملکی تجارت کی لاگت بڑھتی ہے، برآمدی آمدنی کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے بینکوں اور کمپنیوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم اقتصادی دباؤ اور اقتصادی انہدام ایک ہی چیز نہیں۔ اسی طرح کسی ایک بینک کو پابندیوں کا نشانہ بنانا پورے ملک کے مالیاتی نظام کو تباہ کرنے کے مترادف نہیں ہوسکتا۔
ایران کے اقتصادی حکام نے بھی حالیہ دنوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پابندیوں اور جنگی حالات سے پیدا ہونے والے دباؤ کے باوجود ملک کے پاس زرمبادلہ کی مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے وسائل اور ذرائع موجود ہیں۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے بھی ملک کے پاس مناسب زرمبادلہ کے وسائل موجود ہونے اور مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے مرکزی بینک کی مداخلت کی صلاحیت کا عندیہ دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایرانی معیشت کو سنگین مشکلات کا سامنا نہیں۔ مہنگائی، کرنسی پر دباؤ، مالیاتی پابندیاں اور بیرونی تجارت کی بڑھتی ہوئی لاگت ایران کے لیے حقیقی چیلنجز ہیں۔ تاہم ان مسائل کو معیشت کے مکمل انہدام کے مترادف قرار دینا بھی صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
مجموعی طور پر اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کی ’’مالی شہ رگیں‘‘ کاٹنے کا دعویٰ امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور ایران کے خلاف مسلسل اقتصادی جنگ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ واشنگٹن ایران کے بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی راستوں کو ایک ایک کرکے محدود کرسکتا ہے اور تہران کے لیے تجارت کی لاگت میں اضافہ بھی کرسکتا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ایران کا پورا مالیاتی نظام مفلوج ہوچکا ہے، دستیاب شواہد سے کہیں بڑا دعویٰ ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکا ایران کے تمام تجارتی راستوں، برآمدات، مالیاتی ذرائع اور غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے یا نہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ایران کی ’’مالی شہ رگیں کاٹنے‘‘ جیسے دعوے زیادہ تر واشنگٹن کی پابندیوں کی طاقت کا تاثر قائم کرنے کی کوشش دکھائی دیتے ہیں، نہ کہ ایرانی معیشت کی مکمل صورتحال کی حتمی عکاسی۔
