Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اسرائیل نے سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس فراہم کرنا شروع کردی، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیل نے سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس فراہم کرنا شروع کردی، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

امریکا کے ذریعے ریاض کو معلومات کی فراہمی، باب المندب میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے پر توجہ، مشترکہ علاقائی سیکیورٹی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آگئی

اسلام آباد: اسرائیل نے یمن میں حوثی جنگجوؤں کی سرگرمیوں اور ان سے لاحق خطرات سے متعلق انٹیلی جنس امریکا کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ شیئر کرنا شروع کردی ہے، جس کا مقصد خطے میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے اور اہم عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا سے مدد طلب کی تھی، جس کے بعد واشنگٹن نے سعودی درخواست اسرائیل تک پہنچائی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں اور ان سے پیدا ہونے والے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا شروع کردی ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کے تبادلے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کو حوثیوں کی سرگرمیوں، ممکنہ خطرات اور بحری راستوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق بہتر معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ خطے میں بحری نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔ تاہم، انٹیلی جنس تعاون کی نوعیت، اس کے دائرہ کار اور فراہم کی جانے والی معلومات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس معاملے سے واقف ایک غیر ملکی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے امریکی نمائندوں نے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش پر بات کی تھی۔ امریکی نمائندوں کے مطابق اسرائیل یمن میں حوثیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں اور حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر سعودی عرب کو وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت میں امریکا ایک رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جو اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس تعاون کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں نہ صرف خلیجی ممالک کی سلامتی بلکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے بھی چیلنج سمجھی جاتی ہیں۔

آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم کیوں ہے؟

آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہ گزرگاہ نہر سوئز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہونے والی بحری تجارت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس راستے پر سیکیورٹی کی صورت حال خراب ہونے سے تجارتی جہازوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، جبکہ جہاز رانی کی کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑ سکتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی انٹیلی جنس کا ایک اہم مقصد اسی بحری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور اس کے اطراف میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی سابقہ کارروائیوں نے عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو بڑھایا ہے۔

محمد بن سلمان اور السیسی کی ملاقات کے دوران سیکیورٹی مذاکرات

رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر علاقائی صورت حال اور سیکیورٹی امور سے متعلق مذاکرات بھی ہوئے، جن میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مذاکرات کے دوران حوثیوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے اور بحری راستوں کی حفاظت کے لیے علاقائی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی نمائندوں نے مبینہ طور پر سعودی عرب کی معاونت کے لیے ایک مشترکہ علاقائی سیکیورٹی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے ذریعے خطے کے متعلقہ ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ اور سیکیورٹی تعاون بہتر بنایا جاسکے۔

اس مجوزہ نظام کی ممکنہ ساخت، اس میں شامل ہونے والے ممالک اور عملی طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق اس تجویز کا مقصد حوثیوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے۔

علاقائی سیکیورٹی تعاون میں نئی پیش رفت

اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، تاہم ایران اور اس کے اتحادی گروہوں سے متعلق علاقائی سیکیورٹی خدشات مختلف ادوار میں مشترکہ مفادات کا باعث بنتے رہے ہیں۔

امریکا کی ثالثی میں انٹیلی جنس تعاون کی کوششیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن خطے میں اپنے شراکت داروں کے درمیان سیکیورٹی رابطے بڑھانے اور بحری تجارت کو درپیش خطرات کم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم، اس پیش رفت کو باضابطہ اسرائیل سعودی دفاعی معاہدہ یا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس کی فراہمی اور مشترکہ علاقائی سیکیورٹی نظام کی تجویز پر عملی پیش رفت خطے میں مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود، مجوزہ نظام کی تشکیل، اس میں سعودی عرب اور دیگر ممالک کی شرکت اور انٹیلی جنس تعاون کے عملی نتائج سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:4 + 6 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More