ڈونلڈ ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کو اسرائیل کی مدد لینے کا مشورہ
امریکی صدر نے اسرائیل کو ریاض کے لیے مددگار قرار دے دیا، ایران کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر حملے کی دھمکی بھی دے دی
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے، ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے، ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی جانب سے پیش کی جانے والی فوجی مدد کی پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا کو ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی مقام پر حملہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف لڑائی میں مدد دینے سے متعلق اسرائیل کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا، ’’ہاں، بالکل، میرا خیال ہے کہ انہیں ایسا کرنا چاہیے۔‘‘ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سفارتی تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی مبینہ پیشکش کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم سعودی قیادت کی جانب سے اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد کرنا تھا بلکہ ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے امکانات پیدا کرنا بھی تھا۔
اسرائیلی اخبار ’ہاریتز‘ نے 13 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد کی پیشکش قبول کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھلے فوجی تعاون پر سعودی عوام کی جانب سے منفی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ معاملہ سفارتی اور داخلی سیاسی دونوں حوالوں سے حساس ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ طویل عرصے سے علاقائی سفارت کاری کا اہم موضوع رہا ہے، جبکہ فلسطینی مسئلے اور غزہ کی صورت حال کے باعث عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ کھلے تعاون کو سیاسی حساسیت کا سامنا ہے۔ ایسے میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد قبول کرنے کا فیصلہ سعودی قیادت کے لیے پیچیدہ سفارتی صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔
حوثی تحریک یمن میں ایک اہم عسکری اور سیاسی قوت ہے اور اس کے اقدامات بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری سلامتی کے معاملات سے بھی جڑے رہے ہیں۔ اس خطے میں کشیدگی عالمی تجارت اور بحری جہاز رانی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی یمن کی جنگ اور حوثیوں کے ساتھ تنازع کے باعث سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے، تاہم اسرائیل کے ساتھ براہ راست فوجی تعاون کا معاملہ وسیع تر علاقائی تعلقات سے منسلک ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینا چاہتا۔ جمعرات کی رات ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے امریکا کو زیرِ زمین واقع ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی مقام کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت ایک بہت بڑے پہاڑ کے نیچے دفن ہے۔ ان کے بقول، ’’اب ہم پک ایکس ماؤنٹین کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں وہاں جانا پڑ سکتا ہے، ہم اس پر حملہ کریں گے اور اسے تیزی سے تباہ کر دیں گے۔‘‘
امریکی صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ایٹمی پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم مسئلہ سمجھتا ہے اور زیرِ زمین تنصیبات کو بھی ممکنہ اہداف کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس مقام پر حملے کا کوئی حتمی فیصلہ کیا جا چکا ہے یا یہ محض ایک ممکنہ فوجی آپشن کا ذکر ہے۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں اگر ایران کے پاس ایسے ہتھیار آ گئے تو وہ انہیں استعمال کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کے قابل نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر زیرِ زمین تنصیبات کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے کسی مخصوص حملے کے حتمی فیصلے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایران کے ایٹمی پروگرام پر امریکا اور اسرائیل کے تحفظات کئی برس سے دونوں ممالک کی پالیسی کا اہم حصہ رہے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے، جبکہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔ زیرِ زمین تنصیبات کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ادھر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست کا اہم معاملہ ہے۔ ابراہام معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور بعض دیگر ممالک نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور یقین دہانیوں کے باوجود تاحال اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے۔
سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ فلسطینی مسئلے، غزہ کی صورت حال، علاقائی سلامتی اور داخلی عوامی ردعمل جیسے عوامل سے جڑا ہوا ہے۔ حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد کی مبینہ پیشکش اور ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کے تازہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی اتحادوں کے معاملات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
