Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

آبنائےہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع، شمالی راستے پر ایران، جنوبی راستے پرعمان کا کنٹرول ہوگا: امریکی نیوز ویب سائٹ

آبنائےہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع، شمالی راستے پر ایران، جنوبی راستے پرعمان کا کنٹرول ہوگا: امریکی نیوز ویب سائٹ

امریکی ایگزیوس کا دعویٰکیا ہے کہ 60 روزہ عبوری انتظام کے تحت بحری ٹریفک بحال ہوگی، امریکا آج باضابطہ اعلان کر سکتا ہے

واشنگٹن: امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے سلسلے میں ایک عبوری معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں، جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری سفارتی مذاکرات کے بعد فریقین ایک ایسے عبوری معاہدے پر متفق ہونے کے قریب ہیں جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنا، خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جوہری مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام سے متعلق بعض اختیارات حاصل ہوں گے، جو اسے جنگ سے قبل میسر نہیں تھے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان 60 روزہ عبوری انتظام طے پایا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکے گی۔

اس منصوبے کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہاز ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی شپنگ لین استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی جانب جانے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود میں واقع جنوبی شپنگ لین سے گزرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس 60 روزہ عبوری مدت کے دوران کسی بھی جہاز سے ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

ایگزیوس کے مطابق معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ فریقین آئندہ 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی شپنگ لین سے بحری بارودی سرنگوں کی صفائی مکمل کریں گے۔ صفائی کے بعد یہ درمیانی راستہ عمان اور ایران کے درمیان مستقل انتظام کے تحت دونوں سمتوں کی بحری آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے ساتھ ساتھ قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس بھی سفارتی عمل میں مسلسل شریک رہا۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے ہوئے، جن کے نتیجے میں معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی گئی۔

دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں معاہدے پر اصولی اتفاق کر لیا تھا، تاہم انہیں ایرانی سپریم قیادت اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی حتمی منظوری درکار تھی۔

ایک امریکی عہدیدار اور ایک علاقائی ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت نے منگل کے روز معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا، جس کے بعد باضابطہ اعلان کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More