پاک فضائیہ نے بین الاقوامی میڈیا کے سامنے انڈیا کے 3 رافیل سمیت 5 طیارے گرانے کے ثبوت پیش کر دئیے
ائیر مارشل اورنگزیب نے تباہ ہونے بھارتی طیاروں کے نمبرز اور لوکیشن بھی دکھائی
ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے بین الاقوامی میڈیا کے سامنے تین بھارتی رافیل سمیت 5 طیاروں کو گرانے ثبوت پیش کر دئیے ہوئے نمبرز اور لوکیشن بھی دکھائی
ایئر وائس مارشل اورنگریز نے تین بھارتی رافیل سمیت 5 بھارتی طیاروں کو گرانے کے ثبوت پیش کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے نمبرز اور تباہ ہونے کی لوکیشن بھی دکھائی جبکہ بھارتی پائلٹس کی آپس میں گفتگو بھی سنوائی ۔ آڈیو کال میں بھارتی رافیل کے فارمیشن کمانڈر نے کہا کہ ’’ ہمارا ایک ممبر مسنگ ہے ، فضا میں ایک دھماکہ سنا ہے ‘‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے وقار اورآزادی کی حفاظت ہر قیمت پر کرے گا، پہلگام واقعے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا، بھارت بچوں،خواتین اورعام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس واقعے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی گفتگو چلائی جس میں وہ واقعے پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ یہاں پر سب سے زیادہ (بھارتی) فوج ہے، اگر کوئی پوسٹ شیئر کرے گا تو اس کو رات میں ہی اٹھالیں گے، اتنا بھارتی فوج ہے تو وہ کیا کر رہی ہے؟ ایک اور شہری نے کہا کہ منصوبہ بنا کر ایسا نہ کرو، کیا یہ سیکیورٹی کی ناکامی نہیں ہے؟۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت کے پاس شہریوں کے سوالات کے کوئی جوابات نہیں تھے، اس لیے انہوں نے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا، اور انہوں نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا نیٹ ورک موجود ہے وہ دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں ہتھیار فراہم کرتا ہے اور دہشت گردی کے کیمپ درحقیقت بھارتی سر زمین پر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی فوٹیج دکھاتے ہوئے کہا کہ بلوچ دہشت گردوں نے ویڈیو بنانے کے فوراً بعد بھارت بھیجی اور وہاں کے الیکٹرانک میڈیا پر سب سے پہلے چلائی گئی۔اس موقع پر بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان کی فوٹیج بھی دکھائی گئی جو بھارتی میڈیا پر اس واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بیان کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کینیڈا اور دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے اور قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کا ایک مقصد پاکستان کے مغربی حصے میں سرگرم دہشت گردوں، فتنہ الخوارج کو اسپیس فراہم کرنا تھا جنہیں وہ خود کو اسپانسر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیاں ان دہشت گردوں کے گرد روز بہ روز گھیرا تنگ کررہی ہیں، اور اس (پہلگام واقعے) کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے سیکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ ہٹانا بھی تھا، اور ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، کیونکہ پہلگام حملے کے بعد 100 سے زیادہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوئے تھے جنہیں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا تھا، ان میں سے 71 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔
