سڈنی دہشت گردی: آسٹریلوی خفیہ ایجنسیز کا بھارت سے رابطہ
سڈنی فائرنگ میں 16 افراد کی ہلاکت کے واقعے میں بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آ گئے
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فائرنگ کے ذریعے 16 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے واقعے میں بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آ گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اس واقعے پر بھارتی حکومت سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی انٹیلی جنس اداروں نے دہشتگردی میں ملوث عناصر کے حوالے سے معلومات اور پوچھ گچھ کے لیے بھارتی حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ واقعے کے پس منظر اور ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 16 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلوی حکام واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی انٹیلی جنس اداروں نے واقعے سے متعلق بعض معلومات کے تبادلے اور پس منظر جاننے کے لیے بھارتی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ رابطہ ممکنہ روابط اور مشتبہ عناصر کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم کسی قسم کی حتمی ذمہ داری کا تعین تاحال نہیں کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران سڈنی حملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص کے قریبی دوست کے بیان کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کے خاندانی روابط بھارت سے ہیں۔ تاہم آسٹریلوی حکام نے اس بیان کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کسی بھی ملک یا ادارے کو براہِ راست ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
