امریکا نے کہا بھارت سیزفائر چاہتا ہے، ہم حساب چکتا کرچکے تھے، اس لیے آمادہ ہوگئے، اسحق ڈار
انٹرنیشنل فورم پر آپ کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں، جعفر ایکسپریس پر بھارت نے تاحال کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا، وزیر خارجہ
اسلام آباد: نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ سینٹر اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے کسی ملک سے سیز فائر کے لیے رابطہ نہیں کیا بلکہ امریکی وزیر خارجہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، ہم حساب چکتا کرچکے تھے اس لیے آمادگی ظاہر کردی۔
سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا، سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام تراشی کرنا شروع کردی تاہم ہم نے ذمہ داری سے بیان دیا کہ ہمارا پہلگام واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں اور عالمی دنیا کو ثابت کیا بھارت نے غلط بیانی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں افسوسناک واقعے کے بعد بھارتی الزام تراشیوں پر ہم تمام ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے میں تھے اور پوری دنیا نے کہا کہ دونوں ممالک صبر کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 7 مئی کی رات کو جھوٹ بولا کہ 15 جگہوں پر حملہ ہوا، انہوں نے سکھ کمیونٹی کو اکسانے کے لیے یہ الزامات لگائے اور پھر ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا کہ ڈرون بھیجنا شروع کردیے، لگ بھگ 80 ڈرون پاکستان میں پھر رہے تھے۔
اسحق ڈار نے کہا کہ باہر کے ممالک نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے بھارت کے سکھوں مقام پر حملہ نہیں کیا اور کوئی پاکستان سے پہلے ایف 16 نہیں اڑا، ہم نے دونوں دفعہ خود کا دفاع کرنے کے لیے بھارت پر حملہ کیے جب کہ عالمی قانون کے مطابق ہم نے فوری طور پر بھارت کو جواب دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان فورسز کو اتھارٹی دی گئی کہ اب صبر کے بجائے آپریشن فیز 1 پر عمل کریں، آرمڈ فورسز کو مخصوص پلان دیا گیا، جس پر عمل شروع ہوگیا۔
انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل فورم پر آپ کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں، جعفر ایکسپریس پر بھارت نے تاحال کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی ایئر اسپیس بھارت کی پروازوں کے لیے مکمل بند کردی اور فیصلہ کیا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے ماریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد ہم نے تحقیقات کی پیشکش کی اور پہلگام واقعہ کے بعد انڈیا کے بیانیہ کو توڑا، پہلگام واقعہ کے فوری بعد افواج کو الرٹ کردیا گیا جب کہ 24 اپریل کی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جواب دینے کا اختیار افواج کو دیدیا تھا۔انہوں نے کہاکہ 6 اور 7 کی درمیانی شب 75 سے 80 بھارتی طیارہ لانچ کیے اور انہوں نے 6 پاکستانی لوکیشنز پر 24 پے لوڈ مارے لیکن تمام جگہیں دہشتگردی کے اڈے نہیں تھے،مساجد اور شہریوں کے گھر تھے۔انہوں نے کہا کہ اس رات ہم نے ہدایت دی تھی پے لوڈ گرانے والوں کو گرانا ہے، پاکستانی ائیر سپیس میں گھسنے والوں کو بھی گرانے کی ہدایت تھی، انڈیا کا دعوی تھا کہ وہ سب کچھ ہے پاکستان فارغ ہوگیا ہے۔
اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کسی کو سیز فائر کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے، امریکی وزیر خارجہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، ہم حساب چکتا کرچکے تھے اس لیے آمادگی ظاہر کردی۔انہوں نے واضح کیا کہ ہم عزت و وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، ہم نے جب آپریشن فیز 1 مکمل کرلیا تو کہا گیا بھارت جنگ روکنے کے لیے تیار ہے، کہا گیا کہ جے شنکر کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ اس تمام تر صورتحال میں انڈیا کا بیانیہ نہیں بنا، دنیا نے دیکھا جو کہا وہ ثابت ہوا، یہ گھنٹوں میں بھاگ گئے، پاکستان کسی کی بالادستی نہیں مانے گا، کچھ پوسٹوں پر انڈیا سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوا، کچھ پوسٹس ایسی تھیں جو 1947 سے انھوں نے کبھی نہیں چھوڑی تھیں، وہاں انھوں نے سفید جھنڈا لگا دیا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اب بات ڈائیلاگ پر جائے گی، سیاسی ڈائیلاگ ہو گا، سارے مسائل وہاں زیر بحث ہوں گے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جنگ کرنی ہے تو تیار ہیں بات کرنے ہے تو بھی تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بھارتی اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا، سندھ طاس معاہدہ پر صدر ورلڈ بنک کا بیان آگیا ہے، اس جنگ میں انڈیا کو تقریبا 3 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، ہمارے 40 معصوم شہری،11 فوجی شہید ہوئے 180 زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انڈیا کی فوج تنصیبات پر حملے کئے، انڈیا سے کوئی خبر نہیں آئی ہوگی کہ کسی شہری کو نقصان پہنچا ہے، ہم اپنے شہدا اور زخمیوں کی فوج کے ساتھ ملکر مدد اور کفالت کریں گے۔
