Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

آبنائے ہرمز ہماری طاقت ہے، میزائل اور یورینیم پر سمجھوتا نہیں ہو گا، ایران کا دوٹوک مؤقف

آبنائے ہرمز ہماری طاقت ہے، میزائل اور یورینیم پر سمجھوتا نہیں ہو گا، ایران کا دوٹوک مؤقف

صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے، ایرانی اسپیکر

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے اہم تزویراتی طاقت ہے اور تہران کسی بھی صورت اس پر اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا۔

سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران نے اپنے بنیادی مؤقف میں کوئی نرمی اختیار کی ہے۔

انہوں نے کہا، "آبنائے ہرمز ہماری علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے۔ امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو عسکری بنا دیا ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر اپنے قومی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

قالیباف نے آبنائے ہرمز کو "خدا کی عطا کردہ نعمت” اور ایران کا سب سے مؤثر تزویراتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انتظامی اور قانونی معاملات پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ بنیادی شقوں پر عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔ ان شقوں میں لبنان میں جنگ بندی، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں، جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہے۔

قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے، جو ان کے بقول اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی صلاحیتیں مل کر مثبت نتائج دے سکتی ہیں۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے بقول، "یورینیم افزودگی ہمارا قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”

قالیباف نے مزید کہا کہ اگر امریکا اور اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ مدت میں توسیع پر بھی غور کیا جا سکتا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More