پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی ، سہیل آفریدی کا اعلان

پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی ، سہیل آفریدی کا اعلان

لانگ مارچ پرامن ہوگا، حکومتی ہتھکنڈوں سے پی ٹی آئی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور اس بار تحریک انصاف ’’کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں‘‘ کے خلاف فیصلہ کن احتجاج کرے گی۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے، اس حوالے سے پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی میں تمام معاملات پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

وفاقی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی وزیر یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتا، اس کے باوجود ایک منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا گیا، اس کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ راستے بند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی جدوجہد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسے وہ 9 مئی جیسا آپریشن کرنا چاہتی ہو۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر عدالتیں اپنا کام شروع کردیں تو آدھے گھنٹے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت ہوجائے گی۔ ان کے بقول سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل مریم صفدر نے بیان دیا تھا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ اپنے دیگر صوبوں سے خطرہ ہے، جبکہ رانا ثنا اللہ ہمیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کے بیانات سے خیبرپختونخوا کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی کو اٹھایا جا رہا ہے اور صوبے کی سرحدوں پر راستے بند کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی اور پرامن جماعت ہے، تاہم حکومتی اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ 9 مئی کی طرز پر ایک بار پھر پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’اس دفعہ جب نکلیں گے تو کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔‘‘

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے لانگ مارچ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کی حدود میں سڑکوں پر کیلیں گاڑنے کا مطلب صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش ہے، جو انتہائی تشویشناک اور خطرناک پیغام ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا خیبرپختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کسی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف مسلسل یہ بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ پاکستان کو بھارت سے نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے خطرہ ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد اور جنگلی قرار دینے کا بیانیہ چلایا گیا۔ ان کے مطابق صوبے کی حدود میں سڑکوں پر کیلیں گاڑنا اسی سلسلے کی ایک خطرناک کڑی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور وہ پاکستان کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر صوبائی اہلکاروں سے الجھ رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے یا صوبے میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ کو متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے بقول ریاستی اداروں اور حکمرانوں کی جانب سے اختیار کی جانے والی بعض پالیسیاں انتہائی خطرناک ہیں۔

سہیل آفریدی نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی وزرا پر فائرنگ ہوتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ملک کو خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور پرامن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولیاں چلائیں، ہم نکلیں گے۔‘‘

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ریاستی اداروں اور حکمرانوں پر زور دیا کہ سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہ رہیں۔

انہوں نے بعض سیکیورٹی خدشات کے باعث سرکاری عمارات اور دیگر مقامات کی بندش پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی۔ اسی طرح جس مسجد کو تھریٹ کے نام پر بند کیا گیا، وہاں جاکر خود نماز ادا کی۔

سہیل آفریدی کے مطابق ان مقامات کو درپیش خطرات کے حوالے سے حکومتی مؤقف قابلِ سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر واقع ہے اور اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کس مقصد کے لیے موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ حکومتی حلقوں کی دلچسپی خیبرپختونخوا کے وزرا کو گرفتار کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف کو ڈرایا یا سیاسی مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے کا آغاز ہوگا، جبکہ پارٹی قیادت نے اس حوالے سے متفقہ فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصافسہیل آفریدیوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
Comments (0)
Add Comment