نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات کی منتقلی پر قومی مباحثہ، مؤثر بلدیاتی نظام اور انتظامی اصلاحات پر زور
احسن اقبال، مصطفیٰ کمال، قمر زمان کائرہ، فواد چوہدری اور دیگر رہنماؤں کی شرکت؛ مقررین کا وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر اتفاق
اسلام آباد: (نیوز پلس) پاکستان میں انتظامی تنظیمِ نو، نئے صوبوں کے قیام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق قومی مباحثے میں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کرتے ہوئے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے پر زور دیا۔ مباحثے میں اس امر پر توجہ مرکوز کی گئی کہ انتظامی مسائل کے پائیدار حل، ترقیاتی وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے۔
مقررین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وسائل کی منتقلی کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال، مقامی حکومتوں کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے بھی مؤثر نظام درکار ہے۔ بعض رہنماؤں نے نئے صوبوں کے قیام کو اختیارات کی حقیقی منتقلی کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ دیگر مقررین نے انتظامی اصلاحات، قانون کی بالادستی اور موجودہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ مباحثے میں اس امر پر بھی گفتگو ہوئی کہ کسی بھی اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور واضح قانونی و آئینی فریم ورک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، احسن اقبال
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے ترقی کی ہو اور اس کے بچے بڑی تعداد میں اسکولوں سے باہر ہوں۔ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو قومی ترقی، انسانی وسائل کی بہتری اور مستقبل کی معاشی صلاحیت کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق شرح خواندگی میں اضافے اور بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ملک کے تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما میں کمی، یعنی اسٹنٹنگ، کا شکار ہوں، اس کے لیے ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت، غذائیت، تعلیم اور بہتر تربیت پر توجہ دیے بغیر انسانی سرمائے کو ترقی نہیں دی جا سکتی۔
آبادی میں اضافے کی شرح کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں یہ شرح 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.55 فیصد ہو گئی ہے، جو مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے توجہ طلب معاملہ ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
انتظامی اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایک بااختیار تیسری سطح کی حکومت قائم کی جائے تو مقامی سطح پر نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے اور اختیارات کو مؤثر انداز میں عوام تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل ان کی مقامی ضروریات کے مطابق حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ قومی مسائل سے آنکھیں بند کرنا مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے اصلاحات کے عمل میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔
وسائل کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق سے وسائل حاصل کرتے ہیں، تاہم صوبوں کو رقوم منتقل ہونے کے بعد ان کے مؤثر استعمال، نگرانی اور احتساب کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق وسائل کی منتقلی کے ساتھ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ عوامی ضروریات پوری ہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔
مضبوط بلدیاتی نظام ہی عوامی مسائل کا مؤثر حل ہے، مصطفیٰ کمال
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل وقت کا تقاضا ہے، تاہم اس حوالے سے فیصلے کرتے ہوئے زمینی حقائق، آبادی کی ضروریات اور انتظامی تقاضوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شہری اور مقامی مسائل کے حل کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو اپنے دائرہ اختیار میں فیصلے کرنے، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور عوامی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کیے بغیر مقامی حکومتوں سے مؤثر کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
مباحثے میں بلدیاتی اداروں کو انتظامی اور مالی طور پر بااختیار بنانے کے معاملے کو بھی اہمیت دی گئی، کیونکہ مقامی سطح پر پانی، صفائی، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی براہِ راست شہریوں کے معیارِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس اور آئینی اصلاحات پر غور ناگزیر، بیرسٹر عقیل ملک
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے ڈھانچہ موجود ہے۔ انہوں نے وسائل کی تقسیم اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کے تحت رقوم صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد ان کے استعمال سے متعلق فیصلے صوبائی حکومتوں، بالخصوص وزیراعلیٰ کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق سیاسی سطح پر مختلف ترقیاتی کام کرانے کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن گلیوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق متعدد مسائل حل طلب رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ انتظامی ذمہ داریوں اور مالی وسائل کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے فوائد براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش انتظامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے مستقبل میں آئینی ترمیم کی جانب بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بیان سے اس امر کی اہمیت اجاگر ہوئی کہ نئے انتظامی یونٹس، اختیارات کی تقسیم اور صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعلقات جیسے معاملات پر پیش رفت کے لیے قانونی و آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا۔
قانون کی بالادستی کے بغیر انتظامی مسائل حل نہیں ہو سکتے، قمر زمان کائرہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک کے انتظامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرز پر ملک چلانے کا تصور پیش کیا گیا تھا، اس کے مطابق نظام آج تک نہیں چلایا جا سکا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جس ملک میں قانون پر عمل درآمد نہ ہو، وہاں دیگر مسائل کا حل نکالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اصلاحات ضروری ہیں، تاہم صرف ڈھانچے میں تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان بنیادی وجوہات کو بھی سمجھنا ہوگا جن کے باعث انتظامی اور عوامی مسائل برقرار رہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے عمل میں قانون کی بالادستی، اداروں کی کارکردگی اور ذمہ داریوں کے تعین کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے انتظامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مقاصد واضح ہوں اور اس پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔
صوبوں کو وسائل کی منتقلی کے ساتھ بلدیاتی اداروں کا قیام بھی یقینی بنایا جائے، محمد علی درانی
سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا کہ مضبوط بلدیاتی ادارے ہی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق صوبوں کو اربوں روپے منتقل ہونے کے باوجود مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی منتقلی بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ عوامی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مالی وسائل کے استعمال کی نگرانی کی جائے اور ایسے مؤثر انتظامات موجود ہوں جن کے ذریعے معلوم ہو سکے کہ مختص رقوم عوامی ضروریات، مقامی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کس حد تک خرچ ہو رہی ہیں۔
محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ صوبوں کو مؤثر نگرانی کے بغیر وسائل فراہم کرنے سے وہ خودبخود مضبوط بلدیاتی ادارے قائم کر دیں گے۔ ان کے مطابق جب تک اس حوالے سے واضح قانونی تقاضے، مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام موجود نہیں ہوگا، مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا مشکل رہے گا۔
انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور اصلاحات کے معاملے پر سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کو پائیدار بنانے کے لیے تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو مشاورت کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا۔
اختیارات کی حقیقی منتقلی کے لیے نئے صوبے بنانا ہوں گے، فواد چوہدری
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی، یعنی ڈیولوشن، مقصود ہے تو نئے صوبوں کا قیام ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے نئے صوبے بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔
فواد چوہدری کے بیان نے انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو ایک واضح سیاسی جہت دی، جس میں یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اختیارات کی مؤثر تقسیم ممکن ہے یا اس کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کرنا ہوں گے۔
مباحثے میں مختلف رہنماؤں کی آرا سے واضح ہوا کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا معاملہ صرف صوبوں کی تعداد یا جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق وسائل کی تقسیم، مقامی حکومتوں کی خودمختاری، قانون پر عمل درآمد، عوامی خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی جواب دہی سے بھی ہے۔
شرکاء کے خیالات کی روشنی میں انتظامی اصلاحات کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے، واضح قانونی فریم ورک، وسائل کے شفاف استعمال اور مقامی اداروں کو مؤثر اختیارات کی فراہمی اہم نکات کے طور پر سامنے آئے۔ تاہم نئے صوبوں کے قیام، آئینی ترامیم اور بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے کے مختلف طریقوں پر مزید سیاسی و ادارہ جاتی مشاورت کی ضرورت برقرار ہے۔