آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم کا اپیکس کمیٹی میں دوٹوک پیغام

آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم کا اپیکس کمیٹی میں دوٹوک پیغام

وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اہم ترین اجلاس،خیبرپختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اوردہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اہم ترین اجلاس ؐسے خطاب میں کہا ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت اور عسکری قیادت کا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر غور، پولیس، سی ٹی ڈی اور سیف سٹیز منصوبوں کے لیے ہر ممکن وفاقی تعاون کی یقین دہانی

پشاور: (نیوزپلس) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کرنے کے لیے ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ عسکری قیادت، گورنر خیبرپختونخوا، وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے، سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے امور زیر غور آئے۔ اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کی خدمات کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور ملک کے امن و استحکام کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افسران اور جوانوں کی قربانیاں قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یقین دہانی کرائی کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری کے لیے صوبائی پولیس، محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور سیف سٹیز منصوبوں کو درکار وسائل اور معاونت فراہم کرنے میں وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں سیکیورٹی امور کے ساتھ ساتھ صوبے میں ترقیاتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شرکاء نے اس امر کا جائزہ لیا کہ امن و امان کی بہتری کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی سہولتوں اور انتظامی اقدامات کو کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ صوبے میں استحکام اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی پیکج کے اعلان کا بھی امکان ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ اعلان اور تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

اجلاس سے قبل صوبائی ایڈوائزری کونسل کے ارکان بھی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس پہنچے، جبکہ علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ سے متعلق حکام کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ اجلاس میں سیکیورٹی اور ترقیاتی امور کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کی انتظامی اور سیکیورٹی صورتحال کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام بھی پشاور پہنچے۔

اجلاس کو خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاقی و صوبائی اداروں کے تعاون کو مؤثر بنانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اجلاس میں ہونے والے فیصلوں، منظور شدہ اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کی حتمی تفصیلات باضابطہ اعلامیے کے بعد واضح ہوں گی۔

اپیکس کمیٹیخیبرپختونخو اوزیراعظم شہباز شریف
Comments (0)
Add Comment