وفاقی کابینہ کا نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی، ویکسین تیاری پالیسی ، نیشنل سیڈ و نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کی منظوری
مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششیں جاری، جنگ سے معاشی بہتری کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا،شہباز شریف
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کی پالیسی، ملک کی پہلی نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی، نیشنل سیڈ پالیسی اور نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کی منظوری دیدی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی مشرق وسطی میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں جاری ہیں، جنگ سے معاشی ترقی کا سفر رک گیا، پٹرولیم قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی، مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں،مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے، سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے 3ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ چکا دیا، کفایت شعاری اقدامات جاری رہیں گے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے ممبران کو پاکستان کی جانب سے مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بحران کے باوجود عوامی سہولت کے لئے صورتحال کو ہر ممکن بہتر انداز میں سنبھالنے پر اظہار اطمینان کیا۔ اجلاس میں ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کی منظوری دی گئی جس کے تناظر میں ڈریپ کی زیر نگرانی قیمتوں کے تعین اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی، پالیسی کا مقصد ویکسین کی مد میں درآمدات پر انحصار کم کرنا، قیمتی زرمبادلہ کی بچت اور ملک کو ویکسین کی تیاری میں خود کفیل کرنا ہے۔
کابینہ نے وفاقی نظامت تعلیم میں یومیہ اجرت پر خدمات سر انجام دینے والے گریڈ 1تا 15کے اساتذہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان کی اہلیت کے مطابق ایف ڈی ای ریگولیشنز2025 کے تحت ان کی خدمات بطور وزٹنگ فیکلٹی لئے جانے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں نیشنل سکلز ڈیویلپمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی گئی، پالیسی کے تحت ملکی صنعت و تجارت کی ضرویات اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق افرادی قوت کی استعداد کار کو ہم آہنگ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ مزید برآں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لئے بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کے لئے خصوصی اقدامات بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ وفاق اور تمام صوبے اس تناظر میں باہمی تعاون سے کام کریں گے،نجی شعبہ بھی اس پالیسی پر عمل درآمد کا اہم حصہ ہوگا۔
اجلاس میں ملک کی پہلی نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی، اس پالیسی کا مقصد قومی غذائی تحفظ، زرعی پیداور میں خاطر خواہ اضافہ اور زرعی شعبہ میں تحقیق و ترقی اور موثر حکمت عملی کو یقینی بنانا ہیاجلاس میں نیشنل سیڈ پالیسی 2025ء کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ پالیسی کا مقصد غذائی تحفظ اور کسانوں کو بااختیار بنانا ہے،پالیسی کے تحت 15سے 20فی صد زرعی پیداوار میں اضافہ اور عالمی معیار کی سیڈ کمپنیز کے ساتھ شراکت داری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ 2025ء اور سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025ء بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ عمران احمد شاہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔قبل ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں اہم واقعات ہوئے، امریکا اور ایران کے مابین پاکستان نے بات چیت کا جو طویل سلسلہ 11اپریل کی رات شروع کرایا وہ 21گھنٹے طویل تھا،یہ میرا تھن سیشن تھا جس کے لیے بے پناہ کاوشیں کی گئیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور دن رات کاوشیں کیں، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مصروف رہے، ہماری بے پناہ کاوشوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی جو ہنوز جاری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اپنی ٹیم کے ساتھ آئے، ان کے ساتھ بھی میرا تھن سیشن ہوئے، ہفتہ کے روز وہ مجھ سے بھی ملے، دو گھنٹے کی ملاقات میں سیر حاصل گفتگو ہوئی، وزیر داخلہ کا بھی اس حوالے سے بہت اہم کردار رہا، ایرانی وزیر خارجہ عمان بھی گئے اور واپس پاکستان آئے پھر روس گئے۔ ان سے میری فون پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اخلاص سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور مشورہ کرکے جواب دیں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس دوران خام تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ہمیں بھی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے، بہت چیلنجنگ صورت حال کا سامنا ہے لیکن اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں صورتحال تسلی بخش رہی اور کہیں لائنیں نہیں لگیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صورت حال ایسی ہے کہ جنگ سے پہلے ایک ہفتے کا پٹرولیم بل جو 300ملین ڈالر ہوتا تھا آج 800ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، حکومت کفایت شعاری اقدامات اور بچت کے ذریعے کوشاں ہے، اس کیلئے ٹاسک فورس بھی بنائی جو صورت حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے، حکومتی اقدامات کی بدولت کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کی مہربانی سے پاکستان کی معیشت میکرو لیول پر پاؤں پر کھڑی ہوگئی تھی اور ہم گروتھ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن جنگ سے بے تحاشا متاثر ہوئے ہیں اور معاشی بہتری کیلئے ہماری دو سال کی اجتماعی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ہمارے اختیار سے باہر تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ جنگ مستقل بند اور امن قائم ہو تاکہ ہمارا ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے رواں ہو۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کر دیئے ہیں، فیڈرل ریزروز بھی اپنی جگہ پر ہیں، اس کیلئے ہم سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان بن عبد العزیز السعود اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارا مسئلہ فوری طور پر حل کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسائل کے پہاڑ ہمارے سامنے کھڑے ہیں لیکن جلد حل ہو جائیں گے۔ امن کیلئے کوششیں ہنوز جاری ہیں، ان میں کمی نہیں آئے گی، ہمت باندھے رکھنا اور محنت جاری رکھنا ہوگی ہماری کوششوں کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا۔ وزیر اعظم نے صوبوں کے ساتھ رابطہ کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو ہدایت کی کہ کفایت شعاری اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اور سبسڈی کو جاری رکھنے کیلئے بات چیت کی جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر بائیکس والوں کا خیال رکھا جائے۔ عوام سے جو کمٹمنٹ کی ہے