کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا، افغان طالبان نے ‘ڈیمارش’ کا پروپیگنڈا کیا: دفترِ خارجہ
افغانستان میں دہشتگردی کی ‘محفوظ پناہگاہیں موجود ہیں۔ افغان سرزمین کا دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔
اسلام آباد: کابل میں پاکستانی ناظم الامور کی طلبی کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ‘ڈیمارش’ کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ‘کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو ملاقات کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے کسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرانا یا وضاحت طلب کرنا پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔’ خیال رہے کہ افغان طالبان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان کی ‘فضائی حدود کی خلاف ورزی اور شہریوں کے خلاف حملوں کی سخت مذمت’ کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا تھا۔افغانستان میں طالبان حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ مشرقی صوبے کنڑ پر کیے گئے مبینہ پاکستانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ 75 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔طالبان حکومت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں یونیورسٹی کے 30 طلبہ سمیت بچے اور عام شہری بھی شامل ہیں۔۔
جمعرات کو ترجمان پاکستان دفتر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ دنوں افغان فورسز نے سرحد پار بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ کی ہے جس سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی اور کئی گھر تباہ ہوئے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں دہشتگردی کی ‘محفوظ پناہگاہیں موجود ہیں۔ افغان سرزمین کا دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔’افغان سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے کا مطالبہ دوحہ معاہدے کا بھی حصہ تھا۔ یہی نکتہ ارومچی مذاکرات میں ترجیحی تھا۔’ کنڑ پر حالیہ حملوں کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند ہفتے قبل افغان دارالحکومت کابل میں منشیات بحالی کے ایک مرکز پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ کے مطابق، 269 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کی دوپہر دو بجے سے شروع ہونے والے پاکستانی حملوں کے دوران مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے گئے، جبکہ چند ذرائع نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اس حملے میں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا۔