ملک کے پی جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ کا متحمل نہیں ہو سکتا، طلال چوہدری
وزیراعلیٰ قومی مفاد اور اپنی زمہ داریوں کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، بانی عمران خان کو خوش کرنے کیلئے بیانات اور ڈرامے کر رہا ہے، وزیر مملکت
آئین کے 148 کے تحت کوئی صوبہ انڈیپینڈنٹ طور پر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جس کے اثرات وفاق اور صوبے دونوں پر آئیں،پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی نہیں سہیل بزدار کو جان بوجھ کر وزیراعلی لگایا گیا، ایسا کم عقل اور بچگانہ سوچ والا وزیر اعلی لگایا گیا جو قومی مفاد اور اپنی زمہ داریوں کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، بانی عمران خان کو خوش کرنے کے لیے بیانات اور ڈرامے کر رہا ہے،آئین کے 148 کے تحت کوئی صوبہ انڈیپینڈنٹ طور پر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جس کے اثرات وفاق اور صوبے دونوں پر آئیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کی جنگ ہے، وزیراعلیٰ بدلنے سے یہ جنگ نہیں رکے گی، آپ کو اپنی سوچ بدلنے پڑی گی، نیشنل ایکشن پلان کے مطابق یہ جنگ جاری رہے گی۔ منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں اگر وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو پسند نہیں آئی تھیں تو اپنے زیر استعمال 4،4 بلٹ پروف گاڑیاں سیکیورٹی فورسز کو دے دیتے، ہمارے جوان جنگ لڑ رہے ہیں اور آپ ڈرامے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے 148 کے تحت کوئی صوبہ انڈیپینڈنٹ طور پر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جس کے اثرات وفاق اور صوبے دونوں پر آئیں، آپ آزاد نہیں ہیں کہ آپ اس طرح کے فیصلے کریں جس کے پورے پاکستان میں اثرات جائیں۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کی جنگ ہے، وزیراعلیٰ بدلنے سے یہ جنگ نہیں رکے گی، آپ کو اپنی سوچ بدلنے پڑی گی، نیشنل ایکشن پلان کے مطابق یہ جنگ جاری رہے گی اور یہ جنگ اب جیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ ہمارے بہادر جوان بغیر کسی جدید اسلحے کے دہشت گردوں کیخلاف شہادتیں دے رہے ہیں اور آپ سیاست اور ساتھ ہی وفاق کی طرف سے دیا گیا سامان بھی واپس کر رہے ہیں، تاکہ ریاست کمزور اور دہشت گرد طاقتور ہوں گے اور آپ کو فائدہ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لگایا گیا، اس کا فیصلہ بتا رہا ہیکہ اسے کیوں وزیراعلی لگایا گیا، وزیر اعلی بدلتے ہوئے تھک جا گے ایکشن اور آپریشن نہیں رکے گا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا ان بلٹ پروف گاڑیوں کے حوالے سے یہ کہنا کہ یہ گاڑیاں ناکارہ ہیں، تضحیک ہے اور یہ ناقابل استعمال ہیں، حقائق کے برخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ حقائق یہ ہیں کہ جو 3 گاڑیاں پہلے مرحلے میں آئی جی خیبرپختونخوا کو دی گئیں، ویسی ہی گاڑی میں بھی استعمال کرتا ہوں، ایسی ہی گاڑیاں وزیر داخلہ، وفاقی وزرا اعلی سیکیورٹی افسران کے بھی زیرِ استعمال ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہا گیا یہ گاڑیاں پرانی ہیں، پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اس سے بھی پرانی گاڑیاں نہ صرف استعمال کر رہی ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں پرانی گاڑیاں امپورٹ کی جاتی ہیں، ان بلٹ پروف گاڑیوں میں شامل ہر گاڑی کی قیمت کم و بیش 10 کروڑ روپے ہے اور یہ گاڑیاں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق ہیں۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ یہ گاڑیاں خیبرپختونخوا حکومت کو اس 600 ارب روپے میں سے دینی چاہیے تھی، جو وفاقی حکومت نے انہیں گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے دیے تھے، وہاں نہ تو انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ہے نہ ہی سیف سٹی پروجیکٹ، سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس بلٹ پروف جیکٹس، گاڑیاں اور جدید اسلحہ تک موجود نہیں ہے۔وزیراعظم کے حکم پر وفاق نے اپنے پیٹ کاٹ کر، یہ گاڑیاں آپ کو دی تھی، وفاق نے خیبرپختونخوا کے لیے بلٹ پروف جیکٹس، رات کی تاریکی میں دیکھنے کے لیے جدید سامان، جدید ڈرونز سمیت ہتھیار بھی حاصل کیے، شہباز شریف نے آئی جی خیبرپختونخوا سے پوچھا بھی تھا کہ یہ سامان آپ کو کب ڈلیور کیا جائے؟ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو آج ہی ڈلیور کر دیتے ہیں۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہیکہ وفاقی حکومت نے جو سامان دیا، اسے سیاست کی نظر کر دیا گیا، ایسے فیصلوں کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آپ دہشتگردوں کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے، آپ کے اندر خوف موجود ہے اور اپ کے سیاسی مفادات ہیں جس سے آپ ریاست کو بلیک میل کر رہے ہیں،اب اگر کوئی نقصان ہوگا تو زمہ دار بھی سہیل آفریدی ہوں گے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے جوان بغیر کسی سازو سامان کے دہشتگردوں کیخلاف میدان میں اتریں۔
تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ غزہ کے نام پر مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے حوالے سے نہیں تھا، احتجاج کرنے والوں نے اسرائیلی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، جبکہ ان کی لیڈر شپ کے گھر سے جو 69 گھڑیاں ملی ہیں، وہ انہی غیر مسلم ممالک کی ہیں، اتنی گھڑیاں تو توشہ خانہ سے بھی نہیں نکلیں۔ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ ٹی ایل پی کی قیادت کے تقریبا 100 اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات ملی ہیں، ٹی ایل پی کی اعلی قیادت ان بینک اکانٹس سے سالانہ کروڑوں روپے سود کی مد میں لے رہی تھی، جلد ہم ان اکاؤنٹس کو پبلک کر دیں گے۔سعد رضوی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ آج کے دن تک لاپتا ہیں، انہوں نے کفن باندھا تھا، نہ کفن مل رہا ہے، نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے، پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد پر مبنی ریفرنس بھیجا ہے، جس پر وزرات داخلہ کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ تو خیبر پختونخوا جیسی کم عقل قیادت اور نہ ہی انتہا پسندانہ سوچ والی ٹی ایل پی کی سوچ کا متحمل ہو سکتا ہے۔